سلمان مجاہد کی جانب سے لڑکی کیخلاف مقدمہ سی کلاس قرار

  تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی اور ایم کیوایم پاکستان کے رہنما سلمان مجاہد بلوچ کی جانب سے علینہ نامی خاتون کیخلاف دائر کیے گئے مقدمہ کو خارج کرنے سے متعلق سی کلاس کی رپورٹ پولیس نے عدالت میں جمع کرادی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سلمان مجاہد بلوچ کے علینہ خان پر لگائے گئے الزام پر شواہد موصول نہیں ہوئے، پولیس کا کہنا ہے کہ سلمان مجاہد بلوچ نے مقدمہ درج کرانے کے بعد تفتیش میں بھی کوئی تعاون نہیں کیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے پولیس کی جانب سے دی گئی رپورٹ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرادی ہے، ایف آئی آر میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایم این اے نے دعویٰ کیا تھا کہ علینہ خان اپنی والدہ کی بیماری کا جھانسہ دے کر ان سے رقوم بٹورتی رہیں اور رقم واپس مانگنے پر انہیں قتل کی دھمکیاں دیں۔ واضح رہے کہ علینہ خان پہلے ہی صارم برنی ایڈوکیٹ کے توسط سے سلمان مجاہد بلوچ کیخلاف زیادتی و ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرانے کیلئے سٹی کورٹ سے رجوع کرچکی ہیں۔ واضح رہے کہ متحدہ رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف تھانہ تیموریہ میں علینہ نامی خاتون نے مقدمہ درج کرایا تھا‘ مقدمے میں اغواء، دست درازی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے حوالے سے دفعات شامل کی گئی ہیں۔ علینہ نامی لڑکی نے الزام عائد کیا تھا کہ سلمان مجاہد نے اسے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں نوکری کا جھانسہ دے کر بلایا اور پھر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا جب کہ بعد میں شادی کا وعدہ کرکے معافی بھی مانگی۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.