سمندروں کی ہوائی قوت سے پوری دنیا کے لیے بجلی بنائی جاسکتی ہے، ماہرین

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہے کہ اگرچہ کھلے سمندروں میں ونڈ ٹربائن کا کوئی بہت بڑا منصوبہ تو زیرِ غور نہیں لیکن اس پر عمل سے سیارہ زمین کی آب و ہوا (کلائمیٹ) کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملے گی۔ اس ضمن میں گہرے سمندروں میں موجود تیرتی ہوئی ونڈ ٹربائن کے بڑے بڑے فارم بہت مناسب رہیں گے اور انہی کی بدولت یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ س تحقیق کے لیے بہت گہرائی میں جاکر سروے کیے گئے ہیں۔ اور غالباً زیادہ سے زیادہ توانائی پیدا کرنے کے تخمینے ہی پیش کئے گئے ہیں لیکن یہ حد ان ونڈ ٹربائنز کی ہیں جو زمین یعنی خشکی پر چلتی ہیں۔ انسانی اور قدرتی وجوہ مثلاً عمارتوں، پرندوں اور دیگر اسباب کی بنا پر ہوا میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق زمینی ونڈ ٹربائن اپنی صلاحیت کے صرف چوتھے حصے تک ہی توانائی پیدا کرسکتی ہیں۔
زمین پر ایک ونڈ ٹربائن کی دو قطاریں لگی ہوں تو پچھلی قطار کی ٹربائنز پہلی سے نصف توانائی پیدا کریں گے اور اگر اس کے پیچھے تیسری قطار ہے تو اس سے بجلی کی پیداوار مزید کم ہوجائے گی ۔ لیکن سمندروں کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں زمین سے 70 فیصد زیادہ تیز ہوائیں چلتی ہیں اور اس سے بجلی کی زائد مقدار پیدا کی جاسکتی ہے۔ نظری طور پر اس مطالعے میں امریکہ میں کنساس کو مرکز بناکر 20 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر ونڈ فارم لگاکر ان کی افادیت نوٹ کی گئی پھر اس کا موازنہ بحرِ اوقیانوس (اٹلانٹک) کے وسط میں لگائے گئے فارم سے کیا گیا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ امریکی زمین پر اتنے وسیع رقبے پر بھی ٹربائن لگا کر صرف امریکہ اور چین کے لیے بھی بجلی بنانا ممکن نہیں جو اس وقت 7 ٹیراواٹ سالانہ ہے۔ لیکن جیسے ہی شمالی اوقیانوس کے اسی رقبے پر ہوائی ٹربائن لگا کر ڈیٹا حاصل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ خشکی کے مقابلے میں تین گنا زائد توانائی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ اگرسمندر میں کسی اچھی جگہ کا انتخاب کرکے صرف 30 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر ٹربائنیں لگائی جائیں تو یہ 18 ٹیرا واٹ سالانہ ہوگی۔ یعنی گرین لینڈ جتنے رقبے سے بننے والی بجلی پوری دنیا کےلیے کافی ہوگی۔ لیکن خیال رہے کہ اب تک یہ صرف ایک نظری (تھیوریٹکل) تخمینہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ونڈ ٹربائن ہر موسم کےلیے موزوں نہیں ہوتیں پھر سمندروں سے بجلی کو خشکی تک لانے والا ایک قابلِ عمل نظام اب تک نہیں بن سکا ہے۔ اسی لیے کین کیلڈیرا کا خیال ہے کہ سمندری ونڈ ٹربائنز کےلیے کئی ایک ٹیکنالوجیز پر کام کرنا ہوگا۔ اگرچہ توانائی کے ماہرین سورج سے بجلی بنانے کے عمل کو سب سے موزوں تصور کرتے ہیں لیکن کین کہتے ہیں کہ سمندری ونڈ ٹربائن مستقبل قریب میں انسانوں کےلیے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب کین کے علاوہ اس مطالعے سے الگ ہوائی توانائی کے ممتاز ماہر اور ایم آئی ٹی کے انجینئر الیگزینڈر سلوکم نے اس تحقیق کو بہت سراہا ہے اور اس منصوبے کو قابلِ عمل قرار دیا ہے۔
یہ تحقیق اسٹینفرڈ میں واقع کارنیگی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، کیلیفورنیا کے ماہرین نے کی ہےاور اس کی تفصیلات پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئی ہیں۔ سائنسدان کین کیلڈیرا کہتے ہیں، ’میں اسے جیوفزیکل نقطہ نظر سے صنعتوں کےلیے ایک اجازت نامہ سمجھتا ہوں تاکہ ارضی سطح پر بڑے پیمانے پر مثبت تبدیلیاں لائی جاسکیں۔‘
This entry was posted in Science and Technology, اہم خبریں. Bookmark the permalink.