سندھ اسمبلی میں مویشیوں کی رجسٹریشن و تجارت سے متعلق بل متفقہ منظور

رعنا انصار کے نام سے فنڈ جاری کرنے پر سیکریٹری خزانہ کیخلاف خاتون رکن کی تحریک استحقاق کمیٹی کے سپرد۔ فوٹو:فائل

مویشیوں سے متعلق قانون ( سندھ لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 ) کہلائے گا۔ اس ایکٹ کے تحت صوبے میں لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈ اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کا ہیڈ آفس کراچی میں ہوگا۔ یہ اتھارٹی صوبے میں بین الاقوامی معیارکے مطابق جانوروںکی رجسٹریشن اور شناخت کا ایک نظام وضع کرے گی۔ اس نظام کے تحت جانوروں کے بارے میں پتہ چل سکے گاکہ وہ کہاں ہیں۔

اتھارٹی اس امرکو یقینی بنائے گی کہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق جانوروں کی پیداوار، تجارت اور مارکیٹنگ ہو، جانوروں کی شناخت کیلیے ان کے ساتھ ایک آلہ لگایا جائے گا جو ان کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگا اور آسانی سے ہٹایا جا سکے گا۔ اتھارٹی جانوروںکی رجسٹریشن اور سینٹرل کمپیوٹر ڈیٹا بیس قائم کرے گی۔ مویشی مالکان اپنے جانور رجسٹرڈ کرائیںگے اور اس حوالے سے انھیں سہولتیں اور معلومات فراہم کی جائے گی۔ جانوروں کی پیدائش کے وقت ہی رجسٹریشن اور شناخت کے لیے کارروائی کرنا ہوگی۔ان کی نقل وحرکت اور پیدائش اور مرنے کے بارے میں اتھارٹی کو آگاہ کرنا ہوگا اور دستاویز لینا ہوگی۔

کمپیوٹرائز ڈیٹا بیس میں جانوروں کی پیدائش واموات کا اندراج ہوگا۔ ہرجانورکومخصوص شناختی کوڈ جاری کیا جائے گا اور انھیں مذبح خانے لانے پر اتھارٹی کو اطلاع دینا لازمی ہوگا۔ لائیو اسٹاک اتھارٹی جانوروںکی ویلفیئر اور نیوٹریشن پرکام کرے گی جبکہ قصابوں کی تربیت اور رجسٹریشن ہوگی۔ درآمد شدہ جانوروں کی بھی رجسٹریشن اور شناخت ہوگی۔ جانوروں کی نقل وحمل کے لیے اتھارٹی دستاویزات جاری کرے گی۔

دیگر صوبوں سے سندھ میں لائے جانے والے جانوروں کے بارے میں بھی اتھارٹی شرائط اور طریقہ کار طے کرے گی۔ اتھارٹی کو چلانے کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز ہوگا جس کے سربراہ وزیرلائیو اسٹاک اینڈ فشریز ہوںگے۔ وزیرلائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے کہاکہ اتھارٹی کے قیام کے بعد مذبح خانوں کی حالت بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ مویشیوںکے نقل و حمل کوان کی صحت سے مشروط کیا جائے گا۔

سندھ اسمبلی میں انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کراچی کے قیام کے لیے بل بھی متعارف کرادیا گیا جبکہ جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ایکٹ میں ترمیم کا بل اور شہداد پور انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی منظور کر لیا گیا۔ دونوں انسٹی ٹیوٹس کے بورڈ آف گورنرزکی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔

سندھ اسمبلی میں جمعرات کو ایم کیو ایم کی خاتون رکن رعنا انصار نے صوبائی سیکریٹری خزانہ کے خلاف تحریک استحقاق پیش کردی جو مزید تحقیقات کے لیے سندھ اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سپرد کردی گئی۔ تحریک استحقاق میں کہاگیاہے کہ سیکریٹری خزانہ نے کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت کسی منظوری کے بغیر ان کے نام فنڈ جاری کردیے۔

اسی طرح کی ایک تحریک استحقاق ایم کیوایم کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو نے بھی کمشنر سکھر کے خلاف پیش کی تھی۔ وہ بھی استحقاق کمیٹی کے سپرد کردی گئی تھی۔ سندھ اسمبلی میں جمعرات کو بھی تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان کی تحریک التوا خلاف ضابطہ قرار دے دی گئی۔ یہ تحریک التوا سول اسپتال کراچی میں دواؤںکی قلت سے متعلق تھی۔

تحریک التوا پیش کرنے پر اسپیکر آغا سراج درانی اور خرم شیر زمان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ گندم کے سرکاری نرخ جلد مقرر کیے جائیں اور گندم برآمدکرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ مطالبہ سندھ کے سینئر وزیر نثارکھوڑو نے جمعرات کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کیا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.