سندھ پولیس کے خوشامدی ایف آئی اے پہنچ گئے

سندھ سے تعلق رکھنے والے سینئر پولیس افسر بشیر میمن نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کا عہدہ سنبھالتے ہی15سینئر پولیس افسران کی خدمات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی سفارش کی تھی جن میں سے زیادہ تر افسران کا تعلق سندھ پولیس سے ہے جبکہ ایف آئی اے میں پہلے سے تعینات پولیس افسران نے اپنے تبادلے پولیس میں کرانے کیلیے پرتول لیے ہیں۔
انتہائی اچھی شہرت کے حامل سینئر پولیس افسر بشیر میمن کی تعیناتی کے فوراً بعد باخبرحلقوں میں یہ اطلاعات گرم ہوگئی تھیں کہ ایف آئی اے کراچی کے ڈائریکٹر شاہد حیات، ڈائریکٹر لاہور ڈاکٹرعثمان انور اور قائمقام ڈائریکٹر عاصم قائم خانی کچھ دنوں کے مہمان رہ گئے ہیں، یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ بشیر میمن سے قربت رکھنے والے پولیس افسران کو تعینات کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون کے عہدے کے متوقع امیدواروں میں سندھ پولیس کے متعدد افسران کے نام لیے جارہے تھے جن میں گریڈ20 کے 2 افسران امیر شیخ اور منیر شیخ کے نام سرفہرست تھے، اسی طرح ڈائریکٹر لاہور کیلیے دیگر سینئر پولیس افسران کے نام لیے جارہے تھے، تمام قیاس آرائیاں اس وقت درست ثابت ہوئیں جب8 ستمبر کو وفاقی حکومت نے15سینئر افسران کی خدمات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی منظوری دی۔ ایف آئی اے میں تبادلہ کیے جانے والے10 افسران اپنی سروس کے دوران زیادہ تر سندھ پولیس سے وابستہ رہے ہیں اورنیب سے تعلق رکھنے والے ایک افسر کا تعلق بھی نیب کراچی سے ہے، اتنی بڑی تعداد میں پولیس افسران کی ایف آئی اے میں تبادلے کے احکام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایف آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے ’اپنی ٹیم‘ کے ذریعے ایف آئی اے کے معاملات چلانے کے خواہشمند ہیں، سندھ پولیس میں ہم خیال اور خوشامدی افراد کے گروپس کی وجہ سے افسران 2 سے 3 بڑے گروہوں میں تقسیم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سندھ میں پولیس کا انتظامی ڈھانچہ کسی بھی دوسرے صوبے کے مقابلے انتہائی غیرمعیاری سمجھا جاتا ہے۔ سینئرپولیس افسر شاہد حیات کی کراچی پولیس چیف کے عہدے پر تعیناتی کو چیلنج کرنے والے پولیس افسران اس وقت ناصرف سندھ بلکہ ایف آئی اے میں بھی اہم عہدوں پر تعینات ہیں اور اسی لیے ان کی ایف آئی اے سے روانگی یقینی ہوچکی ہے تاہم ہم خیال افسران کو نوازنے کا عمل ایف آئی اے کے انتظامی ڈھانچے کیلیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا اورنتیجے میں نااہل افسران اہم عہدوں پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ادارے کی ساکھ نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.