سپریم کورٹ نے نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے خلاف نیب اپیلیں مسترد کر دیں، سپریم کورٹ نے پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ سنا دیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے نواز شریف نے نواز شریف نے ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا جو شخص آزاد نہیں نیب اس کی ضمانت کیوں منسوخ کرانا چاہتا ہے۔ تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ : سپریم کورٹ نے نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے خلاف نیب اپیلیں مسترد کر دیں، سپریم کورٹ نے پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ سنا دیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے نواز شریف نے نواز شریف نے ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا جو شخص آزاد نہیں نیب اس کی ضمانت کیوں منسوخ کرانا چاہتا ہے،

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیلوں پر سماعت کی چیف جسٹس نے نیب وکیل اکرم قریشی سے استفسار کیا کہ ہمیں سارے حقائق پتا ہیں اس سے ہٹ کر آپ کس بنیاد پر ضمانت منسوخی چاہتے ہیں، آپ بتا دیں کن اصولون پر ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے، یہ بھی بتا دیں کہ کیا ہائی کورٹ کو سزا معطل کرنے کا اختیار تھا ، نیب وکیل نے کہا کہ ضمانت کے کیس میں میرٹ کو نہیں دیکھا جا سکتا لیکن ہائی کورٹ نے میرٹ کو دیکھا، اس کیس میں ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کے میرٹ پر گئی جو کہ اختیارات سے تجاوز تھا ،ہائی کورٹ نے خصوصی حالات کو بنیاد بنایا ، جسٹس گلزار نے کہا کہ لیکن ضروری نہیں کہ یہ حالات واقعی ایسے ہوں ، چیف جسٹس نے کہا کہ ضمانت تو اب ہوگئی ہے بی شک غلط اصولوں پر ہوئی ہو، آپ ہمیں مطمئن کریں کہ ہم کیونکر سزا معطلی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیں،

جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ آپ ضمانت منسوخی کن بنیادوں پر چاہ رہے ہیں، نیب وکیل نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے مقدمات کی بنیاد پر ہی کہہ رہا ہوں،صرف ہارڈشپ کے اصولوں پر ضمانت ہو سکتی ہے، نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت ہارڈشپ کے اصولوں پر نہیں ہوئی،

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک چیز سمجھ لیں عبوری حکم کبھی حتمی نہیں ہوتا ، عبوری حکم حتمی حکم پر اثر انداز بھی نہیں ہوتا جسٹس گلزار نے نقطہ اٹھایا کہ جس بنیاد پر نواز شریف کو سزا ہوئی اسی بنیاد پر ان کی ضمانت بھی ہوئی آپ نے تو اس بنیاد کو چیلنج ہی نہیں کیا،

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے خود کہا اوبزرویشن حتمی نہیں، صرف انتہائی بیماری اور علالت کی وجہ سے ضمانت ہو سکتی ہے، ہائی کورٹ نے غیر ضروری طور پر تجاوز نہیں کیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے نواز شریف نے ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا جو شخص آزاد نہیں نیب اس کی ضمانت کیوں منسوخ کرانا چاہتا ہے، وکیل نیب نے کہا کہ ہارڈشپ کی بنیادوں پر ضمانت نہیں ہوئی،جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ لیکن یہ کوئی آپ کی ٹھوس بنیاد نہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ ہارڈشپ پر ضمانت کے اصولوں کو ہائیکورٹ نے ڈسکس کیا یے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا نیب قانون بتائیں وائٹ کالر کرائم کیسے ہوتے ہیں چین میں کرپشن پر سزائے موت دے دیتے ہیں ، چین میں ٹرائل ہوتا ہے اور فائرنگ سکوارڈ کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے ،بار بار کہتے ہیں کس نے قانون بنایا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نیب قانون میں صمانت کے تصور کو متعارف کروانے ضرورت ہے۔ تاکہ سپریم کورٹ کو آئینی اختیارات استعمال نا کرنے پڑیں ۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نیب اپیلیں مسترد کر دیں،