سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کا اجلاس سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کوئٹہ ڈی جی خان روڈ کی پیش رفت۔۔ تمام تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ :  سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات کا اجلاس سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کوئٹہ ڈی جی خان روڈ کی پیش رفت، مالی سال 2017-18 میں وزارت پاور کی پاور سیکٹر کے منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء، وزارت آبی وسائل کے واپڈا کے منصوبہ جات کے لئے فنڈز کے معاملات کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں سمال سو ڈیمز کی تعمیر کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔کوئٹہ ڈی جی خان روڈ کی تعمیر کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ 520کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ حکومتی فنڈ کے چار منصوبے تھے جو مکمل ہو چکے ہیں اور تین منصوبے ADB کے ہیں جن میں سے ایک مکمل ہوا ہے دو پر کام جاری ہے۔ پورے منصوبے کو مختلف مراحل میں شروع کیا گیا جو 2002سے 2019تک کا منصوبہ ہے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کچلاک کوئٹہ نادرن بائی پاس کا منصوبہ 6671ملین کا تھا بعد میں اضافی کام کے لئے USAID کے فنڈ سے اس کا پی سی ون 19,140ملین کا ہو گیا۔ اس منصوبے کا آغاز مئی 2017میں ہوا۔ کچلاک زیارت موڑ دو لائن کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے زیارت موڑ سے مسلم باغ 67کلومیٹر کا منصوبہ بھی مکمل ہو چکا ہے مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ کا دو لائن کا منصوبہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ رکن کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ کچلاک کوئٹہ نادرن بائی پاس 15کلومیٹر کا منصوبہ تھا جس پر اربوں روپے خرچ کئے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1کلومیٹر کی تعمیر پر 18کروڑ روپے تقریباً خرچ کئے گئے۔ سینیٹر محمد عثمان محمد خان کاکڑ نے کہا مسلم باغ سے قلعہ سیف اللہ روڈ پر مرمت کا کام جاری ہے اور مرمت کے لئے جو میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے وہ معیاری نہیں ہے اور ایسی ناقص انجینئرنگ کی گئی ہے کہ خطرناک موڑ رکھ کر سینکڑوں حادثات کا سبب بنایا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے منصوبے کی تمام تر تفصیلات آئندہ کمیٹی میں طلب کر لیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اسلام آباد سیف سٹی کا منصوبہ 124ملین ڈالر کا دیا گیا جو صرف 25ملین ڈالر کا تھا اس کی ٹینڈرنگ بھی نہیں کرائی گئی تھی اور صرف ایک پارٹی کو دیا گیا تھا۔ کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر یومیہ 0.1% جرمانہ عائد کیا جاتا ہے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ گاڑنگ پہاڑ کے آگے ایک روڈ ہے NHAحکام نے اس کی ساری مٹی ایک چھوٹے ڈیم میں بھر دی ہے صوبے میں پہلے ہی پانی کی بہت کمی ہے اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ کوئی ایسا منصوبہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کو وقت پر مکمل کیا گیا ہو ہر منصوبے کا پی سی ون تبدیل کر کے منصوبے کی لاگت میں ہوشربا اضافہ کیا گیا۔ قلعہ سیف اللہ اور لورالائی N70 کا منصوبہ 6849ملین روپے کا تھا جس کی کنسلٹینسی فیس 24لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 52لاکھ ڈالر ادا کی گئی اور مقامی کمپنی کو کنسلٹینسی فیس 16کروڑ سے بڑھا کر 51کروڑ ادا کی گئی۔ یہ منصوبہ فروری 2019تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری مواصلات چیئرمین NHAکی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجاً NHAکے منصوبہ جات کی بریفنگ موخر کر دی اور آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ورنہ معاملہ استحقاق کمیٹی میں بھیجا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کو پاور ڈویژن کے پاور سیکٹر میں مالی سال 2017-18 کے منصوبہ جات اور فنڈز کے بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔دیامیر بھاشا ڈیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ کل منصوبہ 89400ملین روپے کا ہے اس منصوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے زمین کے لیے 101ارب روپے مختص کئے گئے جس میں سے 85 ارب روپے زمین کی خریداری کے لئے جاری ہوئے۔ زمین کی خریداری تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ 12ارب روپے کا اس میں سے ٹیکس ادا کیا گیا اور 474ارب روپے ڈیم کی تعمیر پر خرچ ہوں گے جبکہ پاور منصوبہ پر علیحدہ بجٹ مختص کیا جائے گا اور ابھی تک ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے 8ارب روپے اکٹھے ہو چکے ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ڈیم کے تعمیر کے حوالے سے فنڈ اکٹھا کرنے میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں۔ سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ گوادر کے پانی کے لئے اس کو شامل کریں تو دل کھول کر منصوبے میں حصہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے دس گرڈ اسٹیشن بنانے کا گزشتہ پانچ سالوں میں منصوبے صرف کاغذوں میں نظر آ رہے ہیں نہ ہی فنڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی عملی کام نظر آ رہا ہے۔ جس پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی بناتے وقت سفارش کی گئی تھی کہ نئے منصوبے شروع کرنے کی بجائے پہلے جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی میں بھی کچھ مسائل ہیں۔ 2017-18کے لئے وزارت خزانہ نے فنڈ کے اجراء کے لئے اسائن اکاؤنٹ کھولنے کی ہدایت کی تھی کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال کے ختم ہونے کے دو دن پہلے فنڈ فراہم کئے گئے۔ کمیٹی نے بلوچستان کے لئے کتنے گرڈ اسٹیشن بنانے کے لئے کتنے فنڈ کا اجراء کیا گیا اور ان گرڈ اسٹیشن کی موجودہ صورتحال کیا ہے بارے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی ادارں کی طرف سے ان کا پی سی ون بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے گزشتہ پانچ سالوں میں چاروں صوبوں کے پی ایس ڈی پی کے پروگرام اور ان کے فنڈ کے اجراء کی تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹرمحمد عثمان کاکڑ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کی عوام کے لئے پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی اور منصوبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے فراہم کردہ لسٹ میں پی ایس ڈی پی کے دو ہزار ارب کے منصوبے ہیں جس میں بلوچستان کے دس ارب کے بھی منصوبے نہیں ہیں۔ سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ کوٹلی میں ایک ڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے اور وہاں کی عوام احتجاج کر رہی ہے کہ اس ڈیم کو علاقے کا نام دیا جائے یہ ان کا حق ہوتا ہے جو فراہم کرنا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا چترال کے پیچھے ایک روڈ جو سی پیک کا حصہ تھی اور اس کا منصوبہ بھی منظور ہو چکا تھا اس منصوبے کو موجودہ حکومت نے کینسل کر دیا ہے جس پر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ منظور شدہ کسی بھی منصوبے کو کینسل نہیں کیا گیا رکن کمیٹی طلحہ محمود کے تحفظات کو آئندہ اجلاس میں دور کر دیا جائے گا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ خان پور روڈ کو NHA مکمل کر رہا تھا درمیان سے 8کلومیٹر اور شروع کے4کلومیٹر پر کام رک گیا تھاNHAحکام نے کمیٹی اجلاس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔ آئندہ اجلاس میں چیئرمین NHAاس حوالے سے تفصیلی بریف دیں۔ قائمہ کمیٹی کو پی ایس ڈی پی کے مالی سال 2017-18 کے واپڈا اور پانی کے منصوبوں بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 51.5ارب کے مختلف منصوبہ جات تھے جن پر 24.5ارب روپے خرچ کئے گئے۔ سینیٹر میر کبیر احمد شاہی نے کہا کہ کچی کینال کا منصوبہ 2002میں شروع ہوا 2008میں مکمل ہونا تھا 2018ختم ہو رہا ہے مگر بلوچستان کے عوام اس منصوبے سے مستفید نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے یہ منصوبہ صوبہ پنجاب کے بارڈر تک پہنچایا اور پنجاب کے عوام ہی اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے بلوچستان کے 7لاکھ ایکڑ زمین کو آباد کرنا تھا اور بھی تک صرف 7.5ہزار ایکڑ زمین کو آباد کیا جا رہا ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کو 72ہزار کمانڈ ایریا تیار کرنے کا کہا گیا اور صرف10ہزار کمانڈ ایریا بنایا گیا۔ وہاں سیٹلمنٹ کے مسائل ہیں۔ لوگ چینل کے لئے زمین فراہم نہیں کر رہے جس پر اراکین کمیٹی نے ایسے لوگوں کی لسٹ طلب کر لی تاکہ ان کے ساتھ مذاکرات کر کے مسائل حل کئے جا سکیں۔ سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں سو چھوٹے ڈیم کی تعمیر بلوچستان کی عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ ڈیم انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں چھوٹے اور بڑے ڈیم شامل ہیں جو سیلابی پانی کو اکٹھا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں ایم پی ایز نے بے شمار جگہوں پر چھوٹے ڈیم تعمیر کرائے جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نہ ہی پانی اکٹھا ہوتا ہے۔ ابھی سو ڈیم کے تین پیکج میں سے دو مکمل ہو چکے ہیں تیسرے پیکج کے لئے اگر 200ملین روپے صوبائی حکومت کو فراہم نہ کئے گئے تو یہ منصوبہ 2019کی بجائے 2036تک بھی مکمل نہیں ہو گا۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا قلعہ سیف اللہ میں نخل ڈیم بنا ہوا ہے وہاں درخت لگا کر پانی کو صاف کیا جائے اور محفوظ کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا کہ سو ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے گزشتہ سال 300ملین جاری کئے گئے اور خرچ بھی کئے گئے اور ابھی تک صرف منصوبے کا 8فیصد فنڈ دیا گیا ہے جبکہ کام 45%ہو چکا ہے۔ ٹھیکیدار بے شمار مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کو اس حوالے سے طلب کر لیا۔ اراکین کمیٹی نے سمال ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے وزارت منصوبہ بندی کی پلیننگ کو ناقص قرار دے دیا اور کہا کہ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس سے منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں جس سے نہ صرف اضافی فنڈز خرچ کرنے سے بچ سکتے ہیں بلکہ ملک وقوم کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز انجینئر رخسانہ زیبری، میر کبیراحمد محمد شاہی، محمد عثمان خان کاکڑ، محمد طلحہ محمود، حاجی مومن خان آفریدی، مرزا محمد آفریدی کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پلاننگ علی رضا، جوائنٹ سیکرٹری جے ایس پاور ڈویژن آصف شیخ، NHA، واپڈا اور پاور ڈویژن کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔