سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سفیران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر اورنگزیب خان کی عوامی اہمیت کے معاملے برائے فاٹا میں اپریشن کے بعد بحالی و تعمیرات کے معاملات پر بات چیت ہوئی۔ تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

 بادبان رپورٹ : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سفیران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر اورنگزیب خان کی عوامی اہمیت کے معاملے برائے فاٹا میں اپریشن کے بعد بحالی و تعمیرات کے معاملات کے علاوہ فاٹا میں لیویز کے اختیارات ، سکولوں ، صحت کے مراکز اور دیگر سہولیات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد کی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ترقیاتی عمل ایسا ہو جس میں تمام لوگ شامل ہوں اور لوگوں کو ان کی قربانیوں کاصلہ مل سکے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد کی صورتحال اور ترقی کے عمل کے حوالے سے عوامی شنوائی کرائی جائے گی جس میں ماہرین ، سول سوسائٹی کے نمائندوں ، میڈیااور متعلقہ اداروں کے حکام سے رائے لی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے فنڈز کے استعمال اور شفاف طریقہ کار اشد ضروری ہے ۔سینیٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ فاٹا میں اپریشن کے دوران بے شمار گھر تباہ ہو گئے تھے حکومت کے اعلان کے باوجود بھی لوگوں کو وہاں معاوضے فراہم نہیں کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سکول بھی تباہی کا شکار ہوئے تھے اور 80 فیصد سے زائد سکول ابھی بھی بند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے جو فاٹا کے علاقوں کا دورہ کر کے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کرے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کے ساتھ ہر معاملے میں ظلم کیا گیا ہے انصافی کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے ۔ایس ڈی جی ایس فنڈ ز کے استعمال نہ ہونے پر بھی معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جو صورتحال نظر آرہی ہے اس سے فاٹا کے انضمام کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔حکومت نے انضمام کے وقت فاٹا کی عوام کیلئے20 ہزار نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ضلع خیبر اور دیگر علاقوں کی ترقی کیلئے فنڈز کو موثر طور پر خرچ کیا جائے تاکہ عوام اس سے مستفید ہو سکیں ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایس ڈی جی ایس فنڈز میں 37.5 کروڑ خرچ نہیں ہو سکا ۔قائمہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اس فنڈ کو علاقے کی ترقی کیلئے خرچ کر دیا جائے گا۔فاٹا کا خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے بعد بے شمار مالی مسائل سامنے آئے تھے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فاٹا ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے تحلیل ہونے کے بعد ڈویلپمنٹ کے کاموں کو جاری رکھنے کیلئے فنڈز کیلئے منظوری کی ضرورت تھی ۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے ہدایت کہ اگر وسائل موجود ہیں تو پانی اور صحت کے شعبوں پر خرچ کر کے عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں اور اس حوالے سے ایک سروے کرایا جائے کہ فاٹا کی عوام کی کیا ضروریات ہیں اور کن مسائل کا سامنا ہے نشاندہی ہونے پر فنڈز کو خرچ کیا جا سکے ۔سینیٹر اورنگزیب خان نے تجویز دی کہ فاٹا کی تمام ایجنسیوں کا قائمہ کمیٹی دورہ کرے اور وہاں کی عوام کے مسائل اور ضروریات سے آگاہی حاصل کرے ۔ سینیٹر ہلال الرحمن نے اس بات پر زور دیا کہ فاٹا کے ضم ہونے کے دس سالہ منصوبے کو کمیٹی اجلاس میں پیش کیا جائے ۔خاصہ دار فورس کے حوالے سے کمیٹی نے تجویز دی کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے بعد ایک ایسا سسٹم تیار کیا جائے جس میں خاصہ دار فورس کو خیبر پختونخواہ فورس میں ضم کیا جا سکے ۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز اورنگزیب خان ، حاجی مومن خان آفریدی ، ہدایت اللہ ، ہلال الرحمن ، سجاد حسین طوری اور سینیٹر لیفٹینٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی کے علاوہ وزارت سفیران کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔