صاف ستھری ایم کیو ایم قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں:فاروق ستار

فاروق ستار کا کہنا ہے شہداء ہماری تحریک کا اہم حصہ ہیں،انکے لہو کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ہر حال میں یادگار ایم کیو ایم شہدا پر جاؤں گا۔ انہوں نے کہا صاف ستھری ایم کیو ایم قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، شر پسندوں کو اپنی صفوں سے نکالیں گے کیونکہ ہم نے عدم تصادم والی ایم کیو ایم کیلئے قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا یادگار شہدا پر کچھ دعوے کروں گا۔ سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 5 نومبر کے جلسے کے بعد بڑا حوصلہ ملا، انتظامیہ نے بتایا ہماری زندگیوں کوخطرات لاحق ہیں۔ فاروق ستار نے کہا صرف ہماری زندگیوں کو ہی خطرہ کیوں ہے؟، ہماری سکیورٹی کا بہترانتظام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا 2018 میں مہاجروں کی عظمت لوٹائیں گے، ایک سال میں ایم کیو ایم پاکستان بہت آگے بڑھ چکی ہے، اگر کارکن یادگار شہدا آئیں تو انکے ساتھ اچھا سلوک ہونا چاہیے۔ سربراہ ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا پی ایس پی نے 7 نومبر کی مثبت کوشش کو سبوتاژ کیا اور وہ آج بھی اس کوشش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریگی، ہم نے سیاسی اتحاد کے دروازے آج بھی کھلے رکھے ہیں۔ دوسری جانب فاروق ستار یاد گار شہدا پر حاضری کیلئے تیار، عامر خان، فیصل سبزواری، کامران ٹیسوری اور رؤف صدیقی سمیت رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی فاروق ستار کے ہمراہ بہادر آباد سے یادگار شہدا جائیں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹٰی کے ارکان کو حاضری کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے، کارکنوں کو یاد گا رشہدا پر حاضری کی اجازت نہیں دی گئی، رابطہ کمیٹی کو مشکل سے اجازت ملی۔ رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا ہے کہ کارکن وہاں پہنچتے ہیں تو ہماری ذمہ داری نہیں، بتائی گئی وجہ ہمیں ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا حکومت اور انتظامیہ کو ہمیں حق دینا چاہیے تھا۔ قبل ازیں والدہ فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میرا ایک بیٹا ہے اور میں نے اسے سیاست میں آنے سے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا بیٹے نے پارٹی کیلئے بہت قربانیاں دیں اور وہ شہدا کو سلام پیش کرنے جا رہا ہے۔ واضح رہے ایم کیو ایم پاکستان نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے عائشہ منزل سے یادگار شہداء تک اپنے مارچ کو منسوخ کر دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی نئی ترتیب کے مطابق کارکنان و عوام کے بجائے ڈاکٹر محمد فاروق ستار رابطہ کمیٹی کے ہمراہ یادگارِ شہداء پر حاضری دیں گے جبکہ یادگارِ شہداء تک مارچ کا پروگرام ناگزیر وجوہات کی بنا پر محدود کیا گیا ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.