طاہر القادری سڑکوں پر نکلے تو بھرپور ساتھ دینگے: عمران خان

عمران خان کا کہنا ہے مسلمانوں کی طرف سے ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتا ہوں، فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ اور لوگوں کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا ٹرمپ جیسے لوگ مسلمانوں کو انسان نہیں سمجھتے، تمام مسلم ممالک کو اس فیصلے کے خلاف کھڑا ہونا چاہیئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کے بعد شہباز شریف کا جھوٹ پکڑا گیا، رانا ثناء نے گولیاں چلانے کا حکم دیا، دونوں کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا طاہر القادری نے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا تو بھرپور ساتھ دینگے، متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے پوری قوم باہر نکلے تا کہ ان کو سزائیں ہوں۔ عمران خان نے کہا پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات کیلئے احتجاج کیا، ملک میں حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، احسن اقبال جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں۔ یہ خبر بھی پڑھیں:عمران خان کا پھر شہباز شریف سے استعفے کا مطالبہ خیال رہے پنجاب حکومت کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسان جھوٹ بول سکتا ہے، حالات نہیں، حالات بتاتے ہیں کہ پولیس والوں نے اس قتل عام میں بھرپور حصہ ڈالا۔ پولیس نے وہی کیا جس کے لیے اسے بھیجا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے سیاسی مقاصد پورا کرنے کے کوئی موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس رپورٹ کو پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری کس پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق تمام ذمہ دار افراد ایک دوسرے کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ یہ بات شیشے کی طرح صاف شفاف ہے کہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے کارروائی روکنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ عدالت کے حکم پر عمل درآمد کیا جاتا تو وزیرِ قانون کو نگرانی میں طے پانے والے آپریشن میں خون خرابا روکا جا سکتا تھا۔ جبکہ تمام بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کسی بھی وقت کارروائی روکنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ خبر بھی پڑھیں:سانحہ ماڈل ٹاؤن بد ترین واقعہ قرار رپورٹ کے مندر جات کے مطابق 16 جون 2014ء کی میٹنگ میں رانا ثناء اللہ نے سختی سے کہا کہ طاہر القادری کو اپنی لانگ مارچ کے مقاصد پورے نہیں کرنے دئیے جائیں گے۔ 17جون 2014 کو میں بھی وزیر اعلیٰ نے ڈس انگیجمنٹ کا ذکر نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ نے ڈس انگیجمنٹ کا لفظ استعمال کیا اور حیرت انگیز طور پر سیکرٹری داخلہ اور رانا ثناء اللہ نے استعمال نہیں کیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے آئی جی پنجاب اور ڈی سی او لاہور کی تبدیلی شکوک شبہات کو جنم دیتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پولیس والوں کو حکم تھا کہ اپنے مقاصد حاصل کریں، چاہے غیر مسلح شہریوں کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ سچ کا سراغ لگانے کے لیے پنجاب حکومت نے ٹریبونل کو مناسب اختیارات نہیں دیے۔ حالات کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ سرکار نہیں چاہتی یہ ٹریبونل واضح نتائج تک پہنچے۔ یہ خبر بھی پڑھیں:عوامی تحریک کو سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کی مصدقہ نقل فراہم کر دی گئی شہباز شریف نے بیان حلفی میں کہا کہ انہیں منہاج القران کے واقعے کا علم ٹی وی کے ذریعے ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے سیکرٹری سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ کہ رانا ثناء اللہ کے حکم پر ادارے کے باہر سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر پولیس کو کارروائی روکنے کا حکم دیا۔ جبکہ سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشن اور ایس پی ماڈل ٹاؤن کو عہدوں سے ہٹا دیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان عوامی تحریک نے غیر ضروری طور پر ٹریبونل کا بائیکاٹ کیا اور اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج ہونے تک کسی بھی قسم کی تحقیقات کا حصہ بننے سے انکار کیا۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.