عبدالرحمن پالوا کا پاکستان — قسط نمبر 5

میں 6 مارچ کو پنجاب میں صادق آباد کے راستے داخل ہوا۔ میں نے پنجاب کے اس سفر میں آٹھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ سندھ کی طرح یہاں بھی سڑکیں سیدھی ہونے کے باعث میری رفتار میں کافی تیزی آئی۔ اب میں روزانہ 160 سے190 کلومیٹر کے درمیان فاصلہ طے کر رہا تھا۔

 

پنجاب داخل ہونے کے تیسرے دن میں نے بھارتی سائیکلسٹ کا ریکارڈ توڑ دیا تھا مگر میرا سفر جاری تھا کیونکہ میرا ٹارگٹ کچھ اور تھا۔ ملتان سے لیہ جاتے ہوئے میرے سائیکل کا پیڈل ٹوٹ گیا تھا۔ یہ دن میرے سخت ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ اس دن ایک ٹوٹے پیڈل کے ساتھ میں نے 190 کلومیٹر سائیکل چلائی تھی۔ جب مشکل ہونے لگی تو لیہ کے بجائے جھنگ کا رخ کیا۔

 

میں جھنگ شہر میں تین دفعہ تین مختلف راستوں سے داخل ہوا اور ہر دفعہ اتفاق سے اس وقت رات کے بارہ یا ایک بج رہے ہوتے تھے۔ اس کے باوجود تینوں دفعہ میرے میزبان میرے استقبال کے لئے پہلے سے ہی موجود تھے۔ جھنگ کے علاوہ ڈیرہ غازی خان، گوجرانوالہ، خانپور، دیپالپور اور دیگر شہروں میں میرا بہت اچھا استقبال ہوا۔ عام لوگوں کی طرف سے ایسا استقبال میرا حوصلہ مزید پختہ کرتا تھا۔

 

 

 

جب میں بوریوالہ میں داخل ہوا تو وہاں کے ڈاکٹر شاہد جو کہ خود ایک سیاح ہیں، میرے استقبال کے لئے سائیکل چلا کر آئے۔ وہ باقاعدہ سائیکلنگ نہیں کرتے مگر میرا حوصلہ بڑھانے کی خاطر سائیکل پر میرا استقبال کرنے آئے تھے۔ بوریوالہ میں میرا دو رات قیام رہا۔ دوسرے دن میں رات بارہ بجے دوسرے راستے سے شہر داخل ہوا۔ میری فرمائش پر ڈاکٹر صاحب نے بریانی بنوائی تھی۔ میرے پہنچنے پر سیلوٹ مار کر استقبال کیا پھر پوچھا :آج کتنی سائیکل چلائی؟

 

میں نے کہا:  195 کلومیٹر

 

ڈاکٹر صاحب بے اختیار بولے:  او میرے خدا۔

 

اسی طرح ٹانگو والی گائوں کے لوگ کوئی بیس کے قریب موٹر سائیکلوں پر مجھے لینے دس کلومیٹر دور آئے۔ لڈن میں ایک قلفی والا ملا۔ اس کی قلفی مجھے پسند آئی تو میں نے چار کھائیں۔ جب پیسے دینے کی باری آئی تو اس نے صرف تین قلفیوں کے پیسے لئے۔ اس کا کہنا تھا کہ آپ جو کام کر رہے ہیں وہ بہت بڑا ہے۔ اگر یہ میری دکان ہوتی تو میں سب کی سب مفت دیتا۔

 

 

 

اس کے علاوہ مجھے دیپالپور کے خالد جاوید صاحب نے بھی بے حد متاثر کیا۔ یہ اپنے بچوں کے ہمراہ ہر تھوڑے وقفے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر و سیاحت کو چل پڑتے ہیں۔ یہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی اس شوق کی ترغیب دے رہے ہوں گے؟ یقیناً مٹھی بھر بھی نہیں۔

 

پنجاب آنے کے بعد میں نے رات گئے تک بھی سائیکل چلائی۔ میری کوشش تھی کہ زیادہ گرمی شروع ہونے سے پہلے میں اپنے سفر کو ختم کرلوں۔ اس سفر کے آخری دس دن گرمی کی شدت کی وجہ سے میرے لئے ذرا سخت تھے۔ ان آخری دنوں میں بمشکل میں نے ایک سو کلومیٹر روزانہ سائیکل چلائی تھی۔

 

پنجاب میں مجھے نورپور تھل اور کٹاس کے علاقے نے بہت زیادہ متاثر کیا۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ زیادہ قدرتی حسن پہاڑی علاقوں میں ہے مگر پنجاب کے یہ علاقے بھی کوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ خاص طور پر نورپور تھل کے علاقے میں دوبارہ جانے کی خواہش ہے۔ یہ صحرائی علاقہ ہے مگر سندھ اور پنجاب کے صحرائی علاقوں میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ یہاں آپ کو تھوڑے وقفے بعد ہریالی ملے گی۔

 

 

 

میں نے اپنا سفر 28 اپریل کو لاہور پہنچ کر ختم کیا۔ اس سفر میں، میں نے 21571 کلومیٹر کا فاصلہ 186 دنوں میں مکمل کیا۔ اب میرا سارا مواد گینیز ورلڈ رکارڈ کے پاس موجود ہے جہاں تصدیق کا عمل جاری ہے۔ میں پر امید ہوں کہ کسی ملک میں سب سے زیادہ سائیکل چلانے کا ریکارڈ پاکستان کے نام ہی ہوگا۔

 

 

 

میرا یہ سفر کبھی کامیاب نہ ہوسکتا اگر میرے ساتھ پاکستانی عوام کی مدد شامل نہ ہوتی۔ یہاں میں واضح کر دوں کہ یہ سارا سفر میرے ذاتی خرچ پر ہوا تھا مگر کچھ علاقوں کے افسر شاہی اور ایک دو سیاستدانوں نے بھی میری مدد کی جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔

 

اس پورے سفر میں مجھے کہیں بھی سیکیورٹی کے لحاظ سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ میرا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے جہاں کے لوگ امن پسند ہیں۔ اللہ ہمارے پاکستان کو ایسے ہی سدا قائم رکھے۔ آمین۔

 

ختم شُد

 

اس سلسلے کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے درج ذیل لنکس پر کلک کریں۔

 

قسط نمبر1

 

قسط نمبر2

 

قسط نمبر3

 

قسط نمبر4

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*