عدالت نے وزیرِ اعظم کے منصب کی توہین کی، نواز شریف

  کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ معزول ججز کی بحالی میں وکلا کی تحریک ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، لیکن افسوس عدلیہ بحالی تحریک چند ججوں کی بحالی کیلئے نہیں تھی، ہم عدلیہ بحالی میں تو کامیاب ہو گئے لیکن عدل کی تابناک صبح نہ ہو سکی۔ عدلیہ بحال ہو گئی لیکن پاکستانی عوام کو انصاف نہیں ملا، اب عدل بحالی کی تحریک چلائی جائے گی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیشہ سیاسی نوعیت کے مقدمات ہماری عدلیہ کو بہت عزیز رہے۔ ہماری عدلیہ نے ہمیشہ سیاستدانوں کے بارے میں سخت رویہ اپنایا لیکن آمروں کو عزیز رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں بڑی تعداد میں مقدمات زیرِ التوا ہیں، سپریم کورٹ میں بھی اس وقت 38 ہزار 945 مقدمات زیر التوا ہیں۔ سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ آج وزیرِ اعظم کا عہدہ مفلوج ہو چکا، روزمرہ کے معاملات میں انتظامیہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا اختیار سلب کر دیا گیا۔ ریاست کا ایک ستون دوسرے کو مفلوج کر دے تو نظام کیسے چلے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے میرے لیے گاڈ فادر اور سسیلین مافیا جیسے الفاظ استعمال کیے گئے، سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں جگہ خالی ہے۔ عدلیہ دوسروں کی عزت نفس کا بھی خیال رکھنا چاہیے، عدالت کو دوسروں کی توہین کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ وزیرِ اعظم کیخلاف ایسے الفاظ کا استعمال منصب کی توہین ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ عمران خان صادق اور امین ٹھہرے اور سارا ملبہ مجھ پر ڈال دیا گیا۔ عدالت میں نیب نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے دائر کیے گئے ریفرنسز بھگت رہا ہوں۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.