عمران خان کا پروفیشنل کرکٹ کے علاوہ آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا: نعیم بخاری

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت، عمران خان نے انکم ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا آپ کے پہلے اور اب کے مؤقف میں فرق ہے، نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا عمران خان کا پروفیشنل کرکٹ کے علاوہ آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ دستاویز غیر مصدقہ ہیں، تصدیق کرائی جائیں، عدالت کا عمران خان کو لندن فلیٹ کی ادائیگیوں اور برطانیہ آسٹریلیا میں کرکٹ آمدن کا ریکارد متفرق درخواست کے ساتھ جمع کرانے کا حکم، چیف جسٹس کہتے ہیں کہ لندن فلیٹ کی خریداری سے متعلق دستاویز اپنے اطمینان کے لیے طلب کیں۔ نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ لندن فلیٹ کی خریداری سے متعلق عدالت کو مطمئین کرنا ہے، لندن فلیٹ کی ادائیگی اور آسٹریلیا برطانیہ میں کرکٹ آمدن کا ریکارڈ بھی مل گیا ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میڈیا کس انداز سے چیزوں کو پیش کرتا ہے اس سے سروکار نہیں، لندن فلیٹ کی خرداری سے متعلق دستاویز اپنے اطمینان کے لیے طلب کیں، درخواست گزار نے لندن فلیٹ خریداری میں منی لانڈرنگ کا الزام نہیں لگایا، درخواست گزار کا الزام یہ ہے کہ عمران خان نے آف شور کمپنی کا بینیفشل مالک ہونا تسلیم کیا، آف شور کمپنی کو ظاہر نہ کر کے عمران خان صادق اور امین نہیں رہے، ہماری دلچپسی اس حد تک ہے کہ عمران خان کے اکاونٹ میں فلیٹ خریداری کے وقت کتنے رقم موجود تھی، فلیٹ خریداری کی رقم بذریعہ بنک ادا کی گئی۔ وکیل پی ٹی آئی نے کہا لندن فلیٹ کی ابتدائی رقم 61 ہزار پاونڈز ادا کی، 55 ہزار پاونڈز بنک سے قرض لیا گیا، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ عمران خان کے مقدمہ میں کس قانون کی خلاف ورزی ہوئی، ٹیکس ایمنسٹی سسکیم سے فائدہ اٹھانے سے کسی کو سزا وار قرار نہیں دیا جاتا، یہ بتایا جائے کہ عمران خان آرٹیکل 62 کے تحت ایماندار ہیں؟، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں، آرٹیکل 184 کی شق کے مقدمہ میں آرٹیکل 62 کو سیاسی انجینئرنگ کے استعمال نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس نے استفسار کیا ایمنسٹی اسکیم متعارف نہ ہوتی تو عمران خان کا کیا موقف ہو تا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ لنفن فلیٹ کو 2002 میں کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیا، 2003 میں فروخت کر دیا، چیف جسٹس نے کہا لندن سے جمائمہ سے ترسیلات آنے کا معاملہ واضع نہیں ہیں، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جمائمہ خان نے 4 کروڑ 8 لاکھ روپے پاکستان بھیجی، عمران خان نے جمائمہ کو قرض سے زیادہ پیسے ادا کیے، یہ میاں بیوی کے درمیان معاملہ ہے، چیف جسٹس نے کہا 26 ہزار ڈالر کی جمائما اور راشد خان کے درمیان سیٹلمنٹ کا کوئی دستاویز ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے غیر مصدقہ دستاویز پیش کی گئیں، تصدیق کرائی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی خود ساختہ دستاویز عدالت میں کیوں جمع کرائے گا، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ قطری خط پیش کرنے پر کس قسم کی شرمندگی دوسرے فریق کو اٹھانی پڑی، اس لیے خود ساختہ دستاویز کیسے دے سکتے ہیں، عمران خان کا موقف درست ہے وہ فلیٹ فروخت کر کے پیسہ پاکستان لائے، چیف جسٹس نے کہا اس طرح کے مقدمات کو جلد نمٹانا چاہتے ہیں،تا کہ عام لوگوں کے مقدمات کو سن سکے۔ عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت وکیل انور منصور کی عدم دستابی پر 31 جولائی تک ملتوی کر دی گئی، تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی خلاف درخواست پر سماعت بدھ سے شروع ہو گی۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں, علاقائی. Bookmark the permalink.