غیر مشروط معافی کے لیے تیار ہیں، وکیل نہال ہاشمی

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی، تاہم نہال ہاشمی بیماری کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اس موقع پر نہال ہاشمی کے وکیل ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ان کے موکل غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔

جس پر عدالت نے کہا کہ غیر مشروط معافی تحریری صورت میں مانگیں، اس کے بعد عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ رواں سال 31 مئی کو نہال ہاشمی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں اپنی جذباتی تقریر کے دوران لیگی سینیٹر دھمکی دیتے نظر آئے تھے کہ 'پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے حساب مانگنے والوں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی'.

نہال ہاشمی نے جوش خطابت میں کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ حساب لینے والے کل ریٹائر ہوجائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنادیں گے۔

بعدازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ پاناما کیس عملدرآمد بینچ کے پاس بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے مذکورہ بینچ نے نجی ٹی وی اور اخبار کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

تاہم اٹارنی جنرل کے غیرملکی سرکاری مصرروفیت کے باعث اس کیس کی سماعت 27 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور پاناما کیس کی سماعت کرتے ہوئے مذکورہ بینچ نے ایک علیحدہ رپورٹ پر دی نیوز کے رپورٹر، پبلشر اور پرنٹر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.