فضائی آلودگی گردوں کے جان لیوا مرض کی وجہ

اس تحقیق کے لیے امریکی سوسائٹی برائے نیفرولوجی نے 8 سال سے زائد عرصے تک 25 لاکھ افراد کا جائزہ لیا ہے اور اس کے بعد یہ نتائج اخذ کئے ہیں۔ اس سے قبل ثابت ہو چکا ہے کہ فضائی آلودگی امراضِ قلب، کینسر اور دیگر امراض کی وجہ بن رہی ہے۔
اس تحقیقی جائزے میں ایک عرصے تک ان لوگوں کو بغور نوٹ کیا گیا جو آلودگی والے علاقوں کے قریب رہتے ہیں اور یوں فضائی آلودگی سے ہونے والے امراض کی فہرست میں ایک نئی بیماری شامل ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے فضائی آلودگی کے باعث گرد، دھویں اور غبار کی معمولی مقدار بھی خون میں شامل ہو جاتی ہے جو خون صاف کرنے والے گردوں کو دھیرے دھیرے نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس ضمن میں 2004 میں ایک مطالعہ شروع کیا گیا جس میں 25 لاکھ افراد کو ساڑھے 8 سال تک جانچا گیا۔ مطالعے میں فضائی آلودگی والے علاقوں میں ان کی رہائش گاہ اور ان کے گردوں کی صحت کا قریبی جائزہ لیا گیا۔ اسی دوران ای پی اے اور ناسا کے مرتب کردہ فضائی آلودگی کے معیارات کو بھی نوٹ کیا گیا۔
ماہرین نے جائزہ لیا کہ فضائی آلودگی ہرسال امراضِ گردہ کے 44,793 نئے کیسز کی وجہ بن رہی ہے جس میں سے 2,438 کیسز میں گردے مکمل طور پر فیل ہو رہے ہیں۔ خود امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں کئی علاقے خوفناک فضائی آلودگی کا شکار ہیں جہاں لوگ گردے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ امریکا میں جنوبی کیلیفورنیا، مڈ ویسٹ اور نارتھ ایسٹ میں فضائی آلودگی اپنے عروج پر ہے اور وہاں لوگ امراضِ گردہ کے شکار ہو رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر زائد ال علی نے کہا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا سروے ہے۔ اگرچہ فضائی آلودگی اور انسانوں میں گردوں کے امراض کے درمیان معلومات کی کمی ہے لیکن ہم نے دریافت کیا ہے کہ فضائی آلودگی واضح طور پر گردوں کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ اگر فضائی آلودگی کی مقدار کم بھی ہو تب بھی یہ گردوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
This entry was posted in صحت, اہم خبریں. Bookmark the permalink.