فنانس سپلیمنٹری بل2019 کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرنے کے حوالے سے ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں اراکین سینیٹ سینیٹر ز محمد طلحہ محمود، اورنگزیب خان ، شیری رحمان ، دلاور خان ، کلثوم پروین ، تاج محمد آفریدی ، سراج الحق ، محمد عثمان خان کاکٹر ، خانزادہ خان اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی طرف سے فنانس سپلیمنٹری بل2019 کے حوالے سے تجاویز کردہ سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ : فنانس سپلیمنٹری بل2019 کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرنے کے حوالے سے ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں اراکین سینیٹ سینیٹر ز محمد طلحہ محمود، اورنگزیب خان ، شیری رحمان ، دلاور خان ، کلثوم پروین ، تاج محمد آفریدی ، سراج الحق ، محمد عثمان خان کاکٹر ، خانزادہ خان اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی طرف سے فنانس سپلیمنٹری بل2019 کے حوالے سے تجاویز کردہ سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی نے زیادہ تر سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے منظور کر لیں تاہم کچھ سفارشات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نا منظور کی گئیں جبکہ جو سفارشات صوبوں کے متعلق تھیں وہ صوبوں کے متعلقہ محکموں کو کمیٹی کی طرف سے خط کے ساتھ ریفر کر دی گی ۔
قائمہ کمیٹی نے سینیٹر کلثوم پروین کی سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا ۔صوبہ بلوچستان سے نکلنے والے کوئلے پر ٹیکس کی شرح کم کرنے کی سفارش منظور کر لی ۔ صوبہ بلوچستان میں ڈیمز کی تعمیر کیلئے 5 ارب کے اجراء کی سفارش کو بھی قبول کر لیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی نے کوئٹہ میں کینسر ہسپتال تعمیر کرنے کیلئے فنڈز فراہم کرنے کی سفارش کو بھی قبول کر لیا گیا ۔سینیٹر سراج الحق کی تجویز برائے کہ ملک کی معیشت کو سود سے پاک کرنے کے حوالے سے معاملے کا جائزہ لیا ۔ اسٹیٹ بنک حکام نے کہا کہ اسلامک بنکنگ ملک میں فروغ پا رہا ہے اور اس کی 2850 برانچیں قائم ہو چکی ہیں اس پر کام ہو رہا ہے جس پر کمیٹی نے سفارش کو واپس کر دیا ۔سینیٹر اورنگزیب خان کی فاٹا کے حوالے سے تجاویز کو نا منظور کیا گیا ۔ سینیٹر محمد عثمان خان کاکٹر کی سفارش برائے کہ اراکین سینیٹ کو سینیٹ اجلاس کیلئے 25 ایئر ٹکٹس کی بجائے اس مالیت کے فنڈز دینے کی سفارش کو بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی سفارش برائے سی ڈی ایس او پر کسٹم ڈیوٹی کو بڑھانے کی سفارش کو بھی منظور کیا گیا جبکہ ان کی سفارش برائے سویا بین میل کی مقامی سپلائی پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کو نا منظور کیا گیا ۔ سینیٹر خانزادہ خان کی سفارش انکم ٹیکس آرڈنینس2001 کی شق 182-A کو نکالنے کی سفارش نا منظور کی گئی البتہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں10 فیصد اضافے کی تجویز کو کمیٹی میں موجود تمام اراکین کی رائے سے منظور کر لیا گیا ۔اراکین سینیٹ نے کمیٹی اجلاس میں کہاکہ جس طرح ٹیکسوں میں اضافہ اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ملازمین کا گزر بسر مشکل ہوگیا ہے ۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے ان کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرمحمد طلحہ محمود کی 60 تجاویز کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ وہ تجاویز جو صوبے کے متعلق تھیں ان پر فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کے خط کے ساتھ متعلقہ صوبائی محکموں کو بھیجی جائیں گی ۔ ڈ ی ٹی آر ای کے تحت ریسائیکل مٹیرئیل کی ایکسپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی جاری رکھنے کی سفارش کو منظور کیا گیا ۔ ایف ٹی اے کے تحت چین کے ساتھ معاہدے میں پاکستان میں تیار ہونے والے آئٹمزکو شامل کرنے کی سفارش بھی منظور کی گئی ۔ قائمہ کمیٹی نے حطار صنعتی زون کیلئے ٹیکسلا ہری پور روڈ کو جلد سے جلد مکمل کرنے کی سفارش منظور کر لی ۔ داسورائے کوٹ روڈ کو جلد سے جلد مکمل کرنے کی سفارش منظور کر لی گئی ۔ حویلیاں سے ایبٹ آباد سٹرک کو چوڑا کرنے کی سفارش بھی منظور کر لی گئی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ شاہ مقصود سے مانسہرہ تک روڈ دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ داسو سے رائے کوٹ 280 کلو میٹر پر مشتمل ہے ۔ داسو سے آگے 136 کلو میٹر کا روڈ بھاشا ڈیم کے اندر آئے گا ۔ واپڈا فنڈز فراہم کر ے گا اور این ایچ اے ایک متبادل سی پیک روڈتیار کر ے گا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسی بھی قسم کی لینڈ سلائڈنگ کی صورت میں ان علاقوں کیلئے ایف ڈبلیو او کو کلیئر کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے ۔ بھاشا اور داسو ڈیم کی زمینوں کی خریداری کیلئے سینیٹر محمد طلحہ محمود کی سفارش کہ متاثرین کو جلد سے جلد معاوضہ فراہم کیا جائے منظور کر لی گئی ۔ بابو سر ٹنل کے حوالے سے بھی سفارش کو منظور کر لیا گیا اور گوادر ایئر پورٹ کو جلد سے جلد مکمل کرنے کی سفارش منظور کی گئی ۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں کم کپسیٹی کے ہائیڈرل منصوبے تعمیر کرنے کی سفارش کو بھی منظور کر لیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی نے فنانس سپلیمنٹری سکینڈ ترمیمی بل2019 میں حکومت کی ترامیم کا تفصیل سے جائزہ لیا اور اراکین سینیٹ کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کا جائزہ لے کر منظور کردہ ترامیم کو بل میں شامل کر کے کل کے ہونے والے سینیٹ اجلاس میں پیش کر دی جائیں گی۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز عائشہ رضا فاروق ، دلاور خان ، محمد طلحہ محمود ، امام الدین شوقین ، میاں محمد عتیق شیخ ، شیری رحمان ، کلثوم پروین ، خانزادہ خان ، محمد عثمان خان کاکٹر کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے حکام نے شرکت کی ۔