فیصلوں میں تاخیر سے معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ جس گھر کا ڈھانچہ ہی غلط ہو وہ گھر نہیں بچتا ۔ایک خاتون کو 61 سال بعد گھر واپس ملا اور وہ ساری زندگی تاریخوں پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہی۔ ایسا انصاف ، انصاف نہیں ہے۔ ۔۔چیف جسٹس۔ اور بہت کچھ بادبان نیوز میں

بادبان رپورٹ : ایک جج روز کا 50 ہزار روپے خرچ کرتا ہے؟ کیا وہ کام بھی اتنا کرتا ہے؟ ایک جج اگر 22 کیس ایک مہینے میں ختم کر رہا ہے تو اُسے چھوڑ دینا چاہیئے کام کرنا۔۔۔ جب جج زمہ داری پوری نہیں کریں گے تو معاشرہ ختم ہو جائے گا۔ کیسز میں تاخیر انصاف نہ کرنے کے مترادف ہے۔عدلیہ کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔انصاف حاصل کرنے کے لئے معصوم عوام عدالت آتی ہے اور عدالت آگے سے تاریخ دے دیتی ہے۔ قبضہ مافیا قبضہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور غریب آدمی 60 سال تک تاریخ پہ تاریخ لے کر مر جاتا ہے۔ ہمیں پُرانے قانون سے نکل کر نئے قانون پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ یہ قانون کو بہتر کرنا پڑے گا۔آج بھی 19وی صدی کی طرح شہادت پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔  آج کے دور میں 40 سال پرانا قانون نہیں چلا سکتے۔ 

فیصلوں میں تاخیر سے معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ جس گھر کا ڈھانچہ ہی غلط ہو وہ گھر نہیں بچتا  ۔۔۔چیف جسٹس۔ اور بہت کچھ بادبان نیوز میں 

ایک خاتون کو 61 سال بعد گھر واپس ملا اور وہ ساری زندگی تاریخوں پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہی۔ ایسا انصاف ، انصاف نہیں ہے۔ 

آپ کے پاس جدید آلات ہیں ، جدید ہتھیار ہیں ۔ آج دن تک ہمارے ہاں زبانی کلامی معاملات چل رہے ہیں جو بہت بڑا ناسور ہیں ۔ اگر ہم معاشرے میں انصاف نہیں لا سکے تو وہی حال ہونا ہے جو حضرت علی نے فرمایا ۔ اورسیز پاکستانیوں کے پلاٹس پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ جب ہمیں ضرورت پڑتی ہے تو ہم اورسیز پاکستانیوں کے پاس جاتے ہیں کہ ہماری مدد کریں  اور اورسیز پاکستانی کے پلاٹ پر قبضہ ہو جاتا ہے تو ہم اُس کو تاریخوں پہ تاریخیں ڈال کر زلیل کرتے ہیں اور پھر وہ کچھ پیسے دے دلا کر پلاٹ/مکان چھوڑ کر واپس چلا جاتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے اورسیز پاکستانیوں کے ساتھ؟

منشاء بن جیسے لوگ قبضے کرتے ہیں اور جائیدادیں کھا جاتے ہیں ۔ کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف وزری نہیں ؟