فیصلے سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی اور رسوائی ہورہی ہے، نوازشریف

مریدکے پہنچنے پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ چند لوگ پاکستان کے مالک نہیں ہوسکتے، پاکستان کے اصلی مالک یہاں کے 20 کروڑ عوام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک پائی بھی کرپشن کی ہوتی تو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتے، مجھے آپ نے اسلام آباد بھیجا لیکن کسی اور نے باہر نکال دیا، نوازشریف کے خلاف کوئی کرپشن یا کمیشن نہیں، کوئی ہیرا پھیری نہیں، کوئی سرکاری فنڈ میں خرد برد نہیں ہوئی۔
آپ کے ووٹ کی پرچی کی کیا اہمیت ہے اسے چند لوگ پھاڑ کر ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے نکالا کس لیے کہ نوازشریف نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی، کیا کبھی باپ بھی اپنے بیٹے سے تنخواہ لیتا ہے، اگر لے بھی لے تو کیا حرج ہے، کیا اس بات پر وزیراعظم کو نکال دیتے ہیں۔ نوازشریف نے کہا کہ اس ملک کو بدلنا ہوگا، آپ کے ووٹ کی پرچی کی کیا اہمیت ہے، چند لوگ پھاڑ کر اسے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں، کیا آپ کو یہ توہین منظور ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دن رات آپ کی خدمت کررہا تھا، موٹروے بن رہی تھی، ترقی ہورہی تھی، بیروزگار نوجوانوں کو روزگار ملنا شروع ہوگیا تھا، ترقی کی یہی اسپیڈ جاری رہتی تو آئندہ دو تین سال میں مللک سے بیروزگاری کا خاتمہ ہوجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے پاکستان کے ساتھ مذاق ہورہا ہے، پاکستان کے علاوہ کسی ملک کا نام بتاؤ جہاں یہ مذاق اور کھیل تماشہ ہورہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آپ کے ووٹ کا احترام میں کراؤں گا، عوام انقلاب کے لیے تیار ہوجائیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ آپ کے وزیراعظم کو رسوا کرکے اس کی تذلیل کرکے باہر نکال دیا جائے کیا یہ پاکستان کو منظور ہے، بتائیں پھر کیا ہونا چاہیے، کیا ملک میں انقلاب ہونا چاہیے۔
فیصلے سے دنیا میں پاکستان کی عزت پر آنچ آرہی ہے
نوازشریف کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ دنیا میں پاکستان کی رسوائی اور بدنامی کا باعث بنا، دنیا اس فیصلے کو مسترد کررہی ہے، پاکستان کے عوام بھی اسے مسترد کررہے ہیں، اس سے دنیا میں ملک کی عزت پر آنچ آرہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوجذبہ دیکھ رہا ہوں یہ انقلاب اور تبدیلی کا پیش خیمہ ہے، یہ دنیا میں ہماری عزت کا جذبہ ہے، اگر یہ نہ ہوا تو دنیا میں ہمارا کوئی احترام نہیں ہوگا، ہمیں بے عزتی منظور نہیں، ہم خوددار قوم ہیں۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ فیصلہ کرکے نکل رہا ہوں، وقت آنے والا ہے فیصلہ ہوجائے گا ملک 20 کروڑ عوام کا ملک ہے یہ چند لوگوں کی جاگیر نہیں ہے اور 20 کروڑ عوام کو ان کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے قبل گوجرانوالہ سے لاہور روانگی سے قبل میاں نوازشریف کی زیرصدارت پارٹی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا۔
میری نااہلی کا منصوبہ پہلے سے بنالیا گیا تھا
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ  ہم سپریم کورٹ میں جو بھی کرلیتے نااہلی کےمنصوبے پر عمل ہونا ہی تھا کیونکہ میری نااہلی کا منصوبہ پہلے سے بنالیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینا جرم، تولینا بھی جرم ہی ٹھہرتا، سپریم کورٹ کے ججز نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا، اگر اس فیصلے کو عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کروں تو عالمی عدالت ایک منٹ میں اسے ختم کردے گی۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں عوام کی خدمت کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے بھی روک دیا گیا۔ نوازشریف نے مزید کہا کہ 70 سال سے ووٹ کی قدر نہیں کی گئی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کو اپنے ووٹ کی قدر کرانی ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.