قذافی اسٹیڈیم انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے لئے تیار

پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ شام 7 بجے شروع ہوگا اور شائقین کرکٹ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھیں گے۔ دونوں ٹیموں کو نجی ہوٹل سے گراؤنڈ لانے کے لئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں جب کہ میچ دیکھنے کے لئے آنے والوں کو کڑی چیکنگ کے بعد گراؤنڈ کے اندر جانے کی اجازت دی جائے گی۔

قذافی اسٹیڈیم کے باہر اور مختلف مقامات پر جگہ جگہ خیر مقدمی بینرز اور بل بورڈز آویزاں کئے گئے ہیں جب کہ گراؤنڈ کے آہنی دروازے پر کھلاڑیوں کی تصویروں والے بل بورڈز بھی لگائے گئے ہیں۔

گراؤنڈ کے اندر آزادی کپ کی افتتاحی تقریب کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اور رنگ برنگے رکشوں کو اسٹیڈیم کے اندر کھڑا کر دیا گیا ہے۔

خصوصی رکشوں میں مہمانوں اور کھلاڑیوں کو بٹھا کر اسٹیڈیم کا چکر لگوایا جائے گا۔

'انڈی پینڈنس کپ' کے دوران سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے بھی خصوصی پلان ترتیب دیا ہے جس کے تحت والٹن اور ڈیفنس روڈ سے آنے والے افراد براستہ کیولری ، فردوس مارکیٹ، حسین چوک سے بائیں مڑ کر لبرٹی مارکیٹ پارکنگ میں گاڑیاں اور موٹر سائیکل پارک کریں۔ قذافی اسٹیڈیم کے اطراف گاڑیوں کی پارکنگ مغل پورہ، مال روڈ اور جیل روڈ پر ہوگی۔ شہریوں کی سہولت کے لیے پارکنگ ایریا سے مفت شٹل سروس کا انتظام بھی کیا گیا ہے اور شائقین کرکٹ 38 بسوں کے ذریعے پارکنگ سے اسٹیڈیم کے انٹری پوائنٹس تک پہنچیں گے۔ چنگ چی، آٹو رکشے، ایل پی جی، ایل این جی اور سی این جی گاڑیوں کا پارکنگ ایریا میں داخلہ ممنوع ہے۔ گاڑی میں موجود تمام افراد کے پاس شناختی کارڈ اور ماسوائے ڈرائیور تمام افراد کے پاس میچ کا ٹکٹ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ میچ کے لئے ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق شائقین کرکٹ پانی کی بوتل اور کھانے پینے کی اشیا اسٹیڈیم میں نہیں لے جا سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق سگریٹ لائٹرز اور لوہے کی کوئی بھی چیز اسٹیڈیم میں لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر انکلوژر میں مجسٹریٹ تعینات ہو گا۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق شائقین کسی قسم کی نعرے بازی نہیں کرسکیں گے، ہلڑ بازی، غیرشائستہ نعروں پر فوری قانونی کارروائی کی جائے گی اور نامناسب نعرے بازی کرنے والے کو مجسٹریٹ فوری گرفتار کر کے موقع پر سزا دے گا ۔ میچ کی سیکیورٹی کے لئے پلان بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق گراؤنڈ کے اندر اور باہر پاک فوج اور رینجرز کے اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے جب کہ پولیس کے 19 ایس پیز، 45 ڈی ایس پیز اور 6 ہزار اہلکار سیکیورٹی کی ذمہ داری ادا کریں گے۔ ورلڈ الیون میں شامل سیموئل بدری نے بھی لاہور پہنچ کر ٹیم کو جوائن کرلیا جس کے بعد مہمان ٹیم کا 14 رکنی اسکواڈ مکمل ہوگیا۔

مہمان کھلاڑیوں نے صبح اٹھ کر ہلکی ورزش کی جس کے بعد انہوں نے ہوٹل کے ریستوران میں بھرپور ناشتہ کیا۔

قومی کرکٹرز بھی میدان میں اترنے سے قبل پرجوش ہیں اور نوجوان کھلاڑی بابر اعظم اور عماد وسیم بھی بال کٹوانے کے لئے ہوٹل میں ہی قائم پارلر پہنچ گئے جہاں انہوں نے مداحوں کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔

پاکستان ٹیم مینجمنٹ نے پہلے ٹاکرے کے لئے 12 کھلاڑیوں کو فائنل کرلیا تاہم حتمی 11 کھلاڑیوں کا فیصلہ میچ سے قبل کیا جائے گا۔ قومی اسکواڈ میں کپتان سرفراز احمد، بابراعظم، فخر زمان، احمد شہزاد، شعیب ملک، عماد وسیم، عمر امین، عامر یامین، محمد نواز، حسن علی، عثمان شنواری اور سہیل خان شامل ہیں۔ قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر بیٹی کی پیدائش کی وجہ سے لندن میں موجود ہیں اور وہ ٹیم کا حصہ نہیں۔ سات ممالک کا 14 رکنی ورلڈ الیون اسکواڈ کپتان فاف ڈوپلیسی، ہاشم آملہ، ڈیوڈ ملر، مورنی مورکل، عمران طاہر، ٹم پین، جارج بیلی، گرانٹ ایلیٹ، سیموئل بدری، بین کٹنگ، پال کولنگ وڈ، تمیم اقبال، ڈیرن سیمی اور تھسارا پریرا پر مشتمل ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) کے چیرمین ششانک منوہر نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا خیر مقدم کیا۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین کو اپنے ملک میں کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ پرامید ہیں کہ پاکستان میں آج کا دن عالمی کرکٹ کی بحالی کا دن ہوگا۔

آج ہونے والے ٹاکرے سے قبل مہمان ورلڈ الیون کی ٹیم نے گزشتہ روز قذافی اسٹیڈیم میں بھرپور پریکٹس کی۔ کھلاڑیوں نے بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کی پریکٹس کی۔

This entry was posted in قومی, کھیل. Bookmark the permalink.