قطر میں جاری امن مذاکرات میں مزید ایک دن کی توسیع کردی گئی ہے۔ جو معاملات زیرِ غور ہیں اُن میں سے نیٹو کے زیرِ استعمال اسلحہ، فوج کی واپسی کے لئے حفاظتی راستہ۔ افغانستان میں امریکہ کے فوجی اڈوں کی موجودگی ہے۔ تمام تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں ۔

بادبان رپورٹ : قطر میں جاری امن مذاکرات میں مزید ایک دن کی توسیع کردگئی ہے۔ افغان مصالحتی عمل کیلئے امریکی حکومت کے نمائندے زلمے خلیل زاد کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد جبہ و دستار بند مولویوں سے مذاکرات کررہا ہے۔ ابتدا میں یہ ملاقات پیر سے منگل تک ہونی تھی لیکن پہلے بدھ اور اسکے بعد جمعرات کوبھی بات چیت جاری رہی۔ بادبان ذرائع کے مطابق زلمے خلیل زاد اور انکے وفد کے ارکان اب بھی قطر میں ہیں لہٰذا ضرورت پڑنے پر گفت و شنید جمعہ کو بھی جاری رہ سکتی ہے۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے بات بہت خوشگوار ماحول میں ہورہی ہے اور اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد فارسی اور پشتو میں بھی بات کررہے ہیں۔ دلچسپ بات کہ زلمے ان مولویوں کی امامت میں نماذیں بھی ادا کررہے ہیں۔ کہیں مذاکرات کے اختتام تک زلمے خلیل زاد بھی امیر المومنین مولوی ہبت اللہ کے ہاتھ پر بیعت نہ کرلیں؟؟؟

امریکی وفد کے ایک رکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ کچھ معاملات پر طالبان کا موقف غیر لچکدار ہے لیکن وہ بہت ہی مدلل اور شائستہ گفتگو کررہے ہیں اور بات چیت کا ماحول بہت خوشگوار ہے۔ جو معاملات زیرِ غور ہیں وہ کچھ اسطرح ہیں:
• فوجی انخلا کے دوران واپس ہوتی غیر ملکی فوج کو مکمل تحفظ و احترام فراہم کیا جائیگا
• نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
• افغان میں موجود نیٹو اسلحہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ طالبان کا اصرار ہے کہ نیٹو یہ سارا اسلحہ انکے حوالے کردے یا اپنے ساتھ واپس لے جائے۔ اسلحہ واپس لیجانے کا خرچ بہت زیادہ ہوگا جو امریکہ کی پریشانی کا باعث ہے۔ خبر ہے کہ حالیہ ملاقات میں جنرل ووٹل نے یہ اسلحہ پاکستان کو فروخت کیلئے پیش کیا تھا لیکن اسلام آباد کو اس میں دلچسپی نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ اسلحے کی بڑی کھیپ کو افغانستان ہی میں تباہ کردیا جائے ۔
• طالبان امریکہ نواز افغان حکومت اور انکے حلیفوں کو عام معافی دینے پر تیار ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ نیٹو انخلا کے بعد بننے والی عبوری حکومت میں اشرف غنی انتظامیہ کی اچھی شہرت رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائیگا۔ طالبان کو موجود افغان حکومت میں کرپشن پر شدید تشویش ہے۔
• خیال ہے کہ انخلا کے ٹائم ٹیبل پر بھی اتفاق ہوگیا ہے
• اسوقت ایک ہی نکتہ پر بات اٹکی ہوئی ہے اور وہ ہے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں امریکہ کے فوجی اڈوں کی موجودگی ۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے چند اڈے برقرار رکھے۔ امریکہ یہ ضمانت دینے کو تیار ہے کہ ان اڈوں کے باہر طالبان تعینات ہونگے اور ان اڈوں کو مستقبل کی افغان حکومت کے خلاف استعمال نہیں کیا جائیگا۔ لیکن مولوی اس پر تیار نہیں۔ اب امریکہ کا مطالبہ بگرام اڈے تک محدود ہوگیا ہے لیکن طالبان کیلئے یہ بھی ناقابل قبول ہے اور گزشتہ دو دن سے اسی نکتے پر بات ہورہی ہے۔ اس معاملے پر طالبان اپنا موقف تبدیل کرنے کوتیار نہیں۔
• عبوری جنگ بندی پر اصولی اتفاق ہوتا نظر آرہا ہے ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ امن معاہدہ ہوجانے کی صورت میں نیٹو افواج پر گولی نہیں چلائیں گے لیکن انخلا مکمل ہونے تک وہ اپنے ہتھیار نہیں رکھیں گے۔ افغا ن فوج کے بارے میں طالبان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ہتھیار ڈالدیں تو انھیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائیگا دوسری صورت میں طالبان حملے جاری رکھیں گے۔
اگر چند برس پہلے کے پاکستانی اخبارات کا جائزہ لیا جائے تو اس سے طالبان کا تصور جاہل و اجڈ لوگوں کے ہجوم کے طورپر ابھرتا تھا۔ لوگ طالبا ن اور امریکہ کی لڑائی کوفرعونیت اور جہالت کی جنگ قراردے رہے تھےلیکن یہ ‘اجڈوگنوار’ مولوی منجھے ہوئے سفارتکاروں سے جس حلم و متانت لیکن پرعزم لہجے میں بات کررہے ہیں اس سے امریکی بھی بے حد متاثر ہیں۔ مومن فطرتاً مخلص و سادہ لوح ہوتا ہے اور کسی کو دھوکہ نہیں دیتا لیکن مومن کو دھوکہ دینا بھی آسان نہیں کہ اسکی بصیرت اللہ کے نور سے معمور ہے۔