قومی اسمبلی ، فاٹا ریفارمز کے معاملے پر قومی اسمبلی میں گرما گرمی

موسم اور بجلی لوڈشیڈنگ کی گرمی قومی اسمبلی میں بھی پہنچ گئی ۔ فاٹا اصلاحات بل پر محمود اچکزئی کی دھواں دھار تقریر اور وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کے پی ٹی آئی ارکان کو بجلی چور کہنے سے ایئرکنڈیشنڈ ایوان کا ٹمپریچر خطرناک حد تک بڑھ گیا ۔ نعرہ بازی سے اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی ۔ قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل اور بجلی کی لوڈشیڈنگ پر شدید ہنگامہ ، حکومت اور پی ٹی آئی کے ایک دوسرے کے خلاف چور چور کے نعرے ، سپیکر کی فاٹا رکن حاجی شاہ جی گل آفریدی کو باہر پھنکوانے کی وارننگ ، فاٹا اصلاحات بل پر ہنگامہ اس وقت ہوا جب حکومتی اتحادی محمود خان اچکزئی نے تمام ارکان کو تاریخ سے نابلد قرار دیا ۔ اس پر فاٹا رکن شاہ جی گل آفریدی جذباتی ہو کر بولنے لگے ، سپیکر نے انہیں تنبیہہ کی کہ وہ چپ نہ ہوئے انہیں اٹھوا کر ایوان سے باہر پھینک دیا جائے گا ۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا حکومت نے فاٹا بل ایک اتحادی رکن کے کہنے پر مؤخر کرنے کیا ۔ فاٹا کا معاملہ ذرا ٹھنڈا ہوا تو وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے پشاور میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی ارکان کو بجلی چور کہہ کر ماحول پھر گرما دیا ۔ شیریں مزاری بغیر مائیک بولنے لگیں ۔ پی ٹی آئی ارکان نے کھڑے ہوکر نعرے بازی کی ۔ جواب میں حکومتی ارکان نے بھی چور چور کی گردان شروع کردی ۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.