قومی بچت اسکیموں پر بزرگ شہریوں اور بیواؤں کو مراعات دینے کا فیصلہ

قومی بچت اسکیموں پر بزرگ شہریوں اور بیواؤں کو مراعات دینے کا فیصلہ ؛فوٹوفائل فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ پر مشتمل قومی بچت کی 2 اسکیموں کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر معمول کی ٹیکس رجیم میں شامل کردیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب محکمہ قومی بچت نے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس میں بیواؤں اور بزرگ شہریوں کے ساتھ ساتھ معذور لوگوں کو بھی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کا جلد اعلان متوقع ہے۔
اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن 1217(I)/2017جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے دوسرے شیڈول کے پارٹ فور میں ایک نئی شق 103شامل کی گئی ہے جس کے ذریعے ان دونوں اسکیموں کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر معمول کی ٹیکس رجیم میں شامل کیا گیا ہے اور ان دونوں اسکیموں پر انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن سات بی کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ مذکورہ نوٹیفکیشن کے ذریعے پنشنرز،بزرگ شہریوں اور بیواؤں کو قومی بچت اسکیموں پر عائد ٹیکسوں میں چھوٹ سمیت دیگر مراعات دی گئی ہیں۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس میںبیواؤں اور بزرگ شہریوں کی سرمایہ کاری ہوتی ہے جبکہ پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس میں سرکاری اداروں، نیم سرکاری اداروں و خود مختار اداروں سے ریٹائرڈ ہونے والے سرکاری ملازمین پر مشتمل پنشنرز کی سرمایہ کاری ہوتی ہے اور حکومت کے اس اقدام سے پنشنرز، بزرگ شہریوں اور بیواؤں کو بہت بڑا ریلیف ملے گا۔ مذکورہ افسر نے بتایا مذکورہ نوٹیفکیشن کے بعد اب پنشنرز، بزرگ شہریوں اور بیواؤں کو بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کی مد میں سالانہ 4 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس سے مکمل چھوٹ حاصل ہوگی جبکہ 60 سال سے زائد عمر رکھنے والے بزرگ شہریوں کو مذکورہ اسکیموں میں سرمایہ کاری پر 4 لاکھ سے زائد آمدنی پر ٹیکس میں 50 فیصد رعایت ملے گی۔
اس کے علاوہ ان بچت اسکیموں کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر معمول کی ٹیکس رجیم میں شامل کرنے سے انہیں ٹیکس کی کریڈٹ کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ پنشنرز،بزرگ شہریوں اور بیواؤںکو بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس پر ادا کردہ ٹیکس، موبائل فون کارڈز، ٹیلی فون بلوں سمیت دیگر مد میں ود ہولڈنگ ٹیکس کی صورت ادا کردہ ٹیکس اپنی مجموعی آمدنی پر ٹیکس میں ایڈجسٹ کروانے کی بھی سہولت میسر ہوگی۔
This entry was posted in Busniess, اہم خبریں. Bookmark the permalink.