لعل کی درگاہ پر قیامت گزرے ایک برس بیت گیا

 

تفصیلات کے مطابق سید عثمان بن مروندی امن و محبت اور اہل بیت کی قربانی کا پیغام لے کر مروند سے سندھ پہنچنے والے صوفی بزرگ کو لعل شہباز قلندر کا لقب ملا، گزشتہ برس 16 فروری کو مزار میں دھمال کے وقت خود کش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں میں سیکڑوں زائرین بشمول خواتین اور بچوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، شہید اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔

دہشت گردوں نے صوفی بزرگ کے محبت کے پیغام کو مٹانے کی کوشش تو ضرور کی مگر شدت پسندی سے نفرت کرنے والے زائرین نے اُن کی اس حکمتِ عملی کو ناکام بنایا اور لعل شہباز قلندر کی درگاہ کو ویران نہ ہونے دیا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*