لندن حملہ کے اثرات ہونگے ،مسلمانوں پر اور بوجھ پڑے گا،لارڈ نذیر

سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ 12 سال بعد برطانیہ میں بڑی دہشت گردی ہوئی ہے ،52 سالہ حملہ آور خالد مسعود پیدائشی برطانوی ہے وہ برطانیہ کی کینٹ کا ئو نٹی میں 25 دسمبر 1964 کو پیدا ہوا تھا اس کو نفسیاتی طور غیر متوازن بتایا گیا ہے ابھی تک شبہ یہی ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا اس حوالے سے برطانوی دارالامرا کے رکن لارڈ نذیر احمد نے پروگرام‘‘ دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کے بارے میں تمام معلومات موجود ہیں ،برطانوی ایجنسی ایم آئی نے اس کو گرفتار بھی کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ داعش اس قسم کے ہر واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہے ۔برطانوی پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آور کا کسی بین الاقوامی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ،داعش اس حملے کو اپنے کھاتے میں اس لئے ڈال رہی ہے کہ وہ اس بات کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے کہ وہ جمہوریت کے لندن کے قلب میں پارلیمنٹ پر بھی حملہ کروا سکتی ہے ،حالانکہ یہ شخص اکیلا تھا،اس کے پاس ایک چاقو تھااس نے گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو مارا ہے۔داعش کا اس سے کوئی تعلق نہیں ،لارڈ نذیر نے کہا کہ یہاں پہلے بھی سخت سکیو رٹی تھی اس واقعہ کے اثرات تو ہوں گے۔قانون سازی بھی ہوگی اور پابندیاں بھی لگیں گی۔ مسلمانوں پر اور بوجھ پڑے گااور ان کی آمدورفت ،مسجد میں جانا اور حجاب وغیرہ تمام سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جائے گا۔میزبان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی میڈیا کوریج سے ہم بہت کچھ سبق سیکھ سکتے ہیں، اس واقعہ کے بعد چار سے پانچ گھنٹے تک اس کی لائیو رپورٹنگ نہیں ہوئی ،پولیس یا میڈیا حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر نہیں لائی ،ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی بریکنگ نیوز نشر نہیں کی گئی ،ہلاکتوں کی تعداد زخمیوں کی شناخت کئی گھنٹے تک خفیہ رکھی گئی۔  
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.