مانیڑی پالیسی کا اعلان، شرح سود 7.5 فیصد مقرر

اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، شرح سود ایک فیصد اضافے سے سات اعشاریہ پانچ فیصد ہوگئی، گورنر طارق محمود کہتے ہیں تیل کے درآمدی بل سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر دباؤ برقرار ہے ، مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کردیا

 

معاشی ترقی کی رفتار توقعات سے کم رہے گی، مہنگائی زور پکڑ جائے گی اور پانی کی قلت سے زرعی شعبے کی پیداوار متاثر ہو گی، گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے معیشت کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کرتے ہوئے بنیادی شرح سود سے بڑھا کر 7 اعشاریہ 5 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔

 

اسٹیٹ بینک میں مانیٹری پالیسی بیان پڑھتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت زرعی شعبے کے لیے بڑا مسئلہ ہے، پیداوار متاثر ہونے سے رواں مالی سال معاشی ترقی حکومتی ہدف 6 اعشاریہ 2 فیصد کے بجائے 5.5 فیصد تک متوقع ہے جبکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کے مقابلے ڈالر مہنگا ہونے سے مہنگائی کی رفتار 6 سے 7 فیصد کے درمیان تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران روپے کی قدر میں 13 فیصد گراوٹ رکارڈ کی جاچکی ہے۔

 

گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے مزید کہا ہے درآمدات کے باعث زرمبادلہ ذخائر پر دباو پڑ رہا ہے ، ایک سال کے دوران عالمی ادائیگیاں وصولیوں کے مقابلے 16 ارب ڈالر زائد رکارڈ کی جا چکی ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ قرضوں کی لاگت بڑھا دے گا اور صنعتکار نئے قرضے لینے سے گریز کریں گے۔اس کے علاوہ بینک سے لون پر گاڑی اور گھر حاصل کرنے والوں کے لیے ماہانہ قرض کی قسط بھی بھاری پڑ جائے گی

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.