مردم شماری کے نتائج کو صوبائیت کا رنگ نہ دیا جائے، وفاقی وزیر داخلہ

احسن اقبال نے کہا ہے کہ مردم شماری میں سول اور عسکری اداروں نے مل کر کام کیا۔ میں نے اس سلسلے میں ڈی جی رینجرز سے بھی بریفنگ لی ہے جس پر ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ ہر فرد کو شامل کرنے کے لیے مواقع دیے گئے۔ سول اور فوج دونوں طرف سے مختلف سطح پر گنتی ہوئی ہے۔ مردم شماری میں تمام افراد کی گنتی کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کی گئی۔ کوئی تشویشناک بات نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ علاقائی حدود کی نشاندہی صوبائی حکومتوں کی ہے۔صوبہ پنجاب کی آبادی میں کمی آئی ہے۔کسی کو اعتراض ہے تو دلائل سے بات کرے۔
ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ اٹھارہ سال بعد بچے سیاسی ہوتے ہیں۔ہم اسٹاک مارکیٹ کو19ہزار سے 52ہزار پوئنٹس کی سطح پر لے گئے ہیں۔ گزشتہ روز کراچی کے ضلع غربی کے علاقے سائٹ میں نادرا کے تیسرے میگا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر چیئرمین نادرا عثمان مبین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نادرا میگا سینٹر سائٹ ایریا میں 3 کاونٹر خصوصی افراد اور بزرگوں کیلیے بنائے گئے ہیں۔ سینٹر میں  2 فلور بنائے گئے ہیں۔ایک فلور ایگزیکٹو جبکہ دوسرا نارمل درخواستوں کیلیے مختص کیا گیا ہے۔ سینٹر میں 300 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ 800 درخواستیں روزانہ کی بنیاد پرنمٹائی جائیں گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ نادرا کا یہ دفتر بہت سہولت فراہم کرے گا جو 1200 افراد کو سروس روزانہ دیگا۔234 وینز میں 78 کا اضافہ کیا گیا ہے۔ الیکشن سے قبل تمام پاکستانی قومی شناختی کارڈ حاصل کرسکیں گے۔ پاسپورٹ کے حصول کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ میں پوری قوم کو بین لاقوامی کرکٹ کی واپسی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں نے پاکستان کا رخ کیا ہے۔دریں اثنا وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال گارڈن میں واقع فاطمہ جناح کالج کا دورہ کیا۔وزیر داخلہ نے کالج میں طالبات کو اعلی تدریسی نظام اورغیر نصابی سرگرمیوں کی  فراہمی پر زندگی ٹرسٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ صرف تعلیم  ہی سے ملک میں معاشی اور معاشرتی ترقی ممکن ہے۔ قبل ازیں پاکستان کوسٹ گارڈ ہیڈکوارٹر کے دورے کے موقع پرتقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ملک دشمن سمندری راستے استعمال کرتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی سمندری حدود کی حفاظت کریں۔ اسمگلنگ بہت بڑا ناسور ہے اور سمندری راستوں سے اسمگلنگ کی روک تھام کی جارہی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 4 سال میں دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، افغانستان کی سرحد پر موثر نگرانی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ دراندازی کا سلسلہ بند کیا جاسکے۔ وفاقی وزیرداخلہ نے کہاکہ خواجہ اظہار پر حملے میں ملوث گروہ کا خاتمہ کردیا ہے تاہم چند افراد مفرور ہیں جنھیں جلد پکڑلیا جائے گا۔ دشمن نوجوانوں کو ورغلارہے ہیں۔  اس حوالے سے ہائی ایجوکیشن کمیشن کو ہدایات کی ہیں کہ تعلیمی اداروں میں موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔انھوں نے کہا کہ آج کل نوجوانوں کی با آسانی سوشل میڈیا تک رسائی ہے جہاں دہشت گرد گروہ نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کرکے بہکا رہے ہیں۔ کچھ اینکر پرسن جب صبح شام جمہوریت کو گالیاں دیں گے، ہر کسی کی پگڑی اچھالیں گے اور کردار کشی کریں گے اور 18 سے 20 سال کے نوجوان کو یہ بتائیں گے کہ ملک میں ہرکوئی چور ہے تو وہ انتہا پسندوں کی طرف کیوں راغب نہیں ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تمام سول آرمز فورسز کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔انھیں مستحکم کرنا ہے۔پاکستان کی سول حکومت اور عسکری ادارے آپریشن ردالفساد کو کامیاب کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ کل بھوشن کا مقدمہ عالمی عدالت میں ہے۔ سول حکومت اور عسکری ادارے مل کر مقدمہ لڑرہے ہیں، یہ ثبوت ہے کہ ہمسایہ ملک ہمارے ملک میں تخریب کاری کرکے سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ چاہتے ہیں آئی جی سندھ کا معاملہ جلد حل ہوجائے۔ آئی جی سندھ کے معاملے پر سندھ حکومت سے تنازع پیدا ہوا ہے۔ گورنرسندھ سے بات ہوئی ہے امید ہے آئی جی کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائیگا، آئی جی سندھ کے معاملے پر کوئی بحران نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ کراچی کے امن میں وفاقی حکومت رینجرز کے ذریعے اپنا کردار اداکررہی ہے۔ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اپنی کوششیں کررہے ہیں اور صوبائی حکومت کی مدد جاری رکھیں گے، امن کے لیے پولیس کا کردار مرکزی ہے۔ علاوہ ازیں احسن اقبال نے کہاہے کہ وفاقی حکومت قائداعظم محمدعلی جناح اور میاں نوازشریف کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کی اقلیتی برادری کو ہرممکن تحفظ فراہم کرے گی۔ گزشتہ روز ان سے مسلم لیگ(ن) منارٹی ونگ سندھ کے سیکریٹری جنرل کھیل داس کوہستانی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں انھوں نے سندھ کے علاقے گمبٹ میں ہندو لڑکی آرتی کماری کے زبردستی اغوا کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔انھوں نے وفاقی وزیرداخلہ کوبتایا کہ سندھ میں ہندو برادری عدم تحفظ کا شکارہے۔نوازشریف کی طرف وزیر اعظم کا منصب چھوڑنے کے بعد ہندو برادری میں ایک مرتبہ پھر احساس محرومی نے جنم لیا ہے۔وفاقی وزیرداخلہ نے کھیل داس کوہستانی کو سندھ سمیت ملک میں تمام اقلیتوں کو ہرممکن تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.