مشہور زمانہ اسلام آباد بیرسٹر فہد قتل کیس کی پریس کانفرس کیوں اور کیسے ہلڑبازی کا شکار ہوئی؟ تمام تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں۔

بادبان رپورٹ : مشہور زمانہ اسلام آباد بیرسٹر فہد قتل کیس کی پریس کانفرس اسوقت ہلڑبازی کا شکار ھو گئی جب  قتل کیس میں اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سزا کاٹنے والے ملزم راجہ ارشد کے صاحبزادے راجہ عثمان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سنٹرل لندن کے مقامی ھوٹل میں پریس کانفرس کرنے والے ہی تھے کہ تقریبا” دس افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں  سفید فام  کے ہمراہ شور مچاتے ہال میں داخل ہو گۓ اور شوروغلُ کرتے ہوۓ کہا کہ ہم فہد کے عزیز اقارب ھیں ہمیں انصاف چاھیے اس دوران انہوں نے گندے انڈوں کا بھی استعمال کیا اور گالی بلوچ شروع کر دی ھوٹل انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس طلب کر لی تفصیلات کے مطابق  2016 میں اسلام آباد میں برٹش نژاد پاکستانی برسٹر  فہد  کو قتل کر دیا گیا تھا جس کی پاداشت میں راجہ ارشد کو گرفتار کر لیا گیا جس کی تاحال تفتیش جاری ہے اور کیس کورٹ میں ہے راجہ ارشد کے عزیز اقارب ان کی رہائی اور انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ۔ کھٹکا رہے ہیں راجہ ارشد کے جوان سال صاحبزادے راجہ عثمان نے اپنے والد کی رہائی اور برسٹر فہد کے اصل قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا اس سلسلے میں انھوں نے ممبران برٹش پارلیمنٹ سے بھی ملاقاتیں کیں اور چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل کی تاکہ دونوں خاندانوں کو انصاف ملے اور اصل ملزمان کو گرفتار کیا جاۓ اس سلسلے میں راجہ عثمان نے اپنے وکیل اعجاز احمد کے ہمراہ لندن کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تاکہ عوام کے سامنے حقائق  اور اپنا موقف پیش کیا جاۓ راجہ عثمان اور ایڈوکیٹ اعجاز احمد نے ابھی پریس کانفرنس شروع کی ہی تھی کہ مرتضی شاہ ۔ مجتبی شاہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہال میں داخل ہو گۓ انھوں نے ہال کا جائزہ لیا اور اپنے دیگر ساتھیوں کو جو ہال کے باہر کھڑے تھے کو اشارہ کر کے اندر بلا لیا ان کے ہال میں داخل ہوتے ساتھ ہی غل غپاڑا اور ہلڑ بازی شروع ہو گئی گالیوں اور انڈوں سے حملہ کر دیا گیا ایڈوکیٹ اعجاز احمد اور راجہ عثمان پر تھپڑ اور انڈے برساۓ گئے برسٹر فہد کے ساتھیوں جن میں عورتیں بھی شامل تھیں پریس کانفرنس کو مکمل ہائی جیک کر لیا مرتضی شاہ اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیتے رہے اور پریس کانفرنس کو خراب اور ہلڑ بازی کی تلقین کرتے رہے جس سے ماحول خراب ہو گیا مقامی صحافی انتہائی پریشانی اور خوف و ہراس میں مبتلا ہو گۓ اس موقع پر راجہ عثمان نے کہا کہ انھیں اس بات کا قوی یقین ہے کہ ہماری پریس کانفرنس کو ناکام بنانے اور ہائی جیک کرنے میں مرتضی شاہ کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ ایک عرصہ سے برسٹر فہد کی حمائت اور ہماری مخالفت کر رہے ہیں انھوں نے ممبران برٹش پارلیمنٹ کو راجہ ارشد کے خلاف ای میلز کیں اور لاتعداد ایسی حرکات کیں جس سے ہمیں نقصان پہنچایا گیا آج کی پریس کانفرنس میں نہ تو انھیں بلایا گیا اور نہ ہی مجتبی شاہ اور بوبی امین اور ان کے دیگر ساتھیوں اور عورتوں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن انھوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غنڈہ گردی کی ان کی اس نازیبہ حرکت پر انھیں انصاف کے کھٹیرے میں آنا پڑے گا انھوں نے صحافت کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے اوپر تشدد کروایا غیر متعلقہ افراد کو پریس کانفرنس میں لے کر آۓ اور غل غپاڑہ کروایا راجہ عثمان نے کہا کہ آج اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہم انصاف اور امن کے خواں ہیں اور اصل قاتلوں کی گرفتاری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف برسٹر فہد کے خاندان کے افراد ہماری کاؤشوں کو ملیا میٹ کرنے پر تلے ہوۓ ہیں حالانکہ انھیں ہماری ان کاؤشوں کو سراہنا چاہیے ایڈوکیٹ اعجاز احمد نے کہا کہ پریس کانفرنس میں صحافی بنکر آنے والے عناصر کا محاسبہ ضروری ہے جنھوں نے چند شرپسندوں کے ہمراہ ایک پرامن پریس کانفرنس میں نہ صرف تشدد کیا بلکہ ماحول کو بری طرح خراب کیا انھوں نے کہا کہ برسٹر فہد کے خاندان کے افراد کیونکر آۓ کس کی دعوت پر آۓ انھیں کس نے بلایا انھیں کس نے اطلاح دی یہ سارے سوالات حل طلب ہیں اگر وہ آۓ تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ پرامن طریقے سے اپنا موقف پیش کرتے راجہ ارشد کے صاحبزادے سے بات چیت کرتے ہوسکتا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کا کوئی راستہ نکل آتا لیکن چند شرپسندوں کی وجہ سے حالات خراب ہوگئے لیکن پولیس کی آمد پر تشدد اور ہلڑ بازی کرنے والے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ہیں پولیس نے رپورٹ درج کر لی ہے آئندہ چند روز میں ان عناصر کے خلاف کارروائی ہو گی جنھوں نے پریس کانفرنس کو سبوتاژ کیا