مصطفیٰ کمال کو ہمارا جواب 8 نومبر کی ہی مل گیا تھا : فاروق ستار

ڈاکٹر فاروق ستار کی یاد گار شہدا پر حاضری، عامر خان، فیصل سبزواری، کامران ٹیسوری، رؤف صدیقی، رابطہ کمیٹی کے ارکان سمیت کارکنون کی بڑی تعداد ہمراہ تھی۔ شہدا کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی، آمد سے پہلے جناح گراؤنڈ کے تالے توڑ دیئے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کارکنون سے خطاب کرتے ہوئے کہا مصطفیٰ کمال کو ہمارا جواب 8 نومبر کی ہی مل گیا تھا، ہماری پارٹی میں کوئی تقسیم نہیں اور ہمارا ووٹ بینک بھی قائم و دائم ہے۔ انہوں نے کہا پریس کانفرنس میں خود کو احتساب کے لیے پیش کیا، کسی بھی عدالت میں پیش ہونے کے لیے تیار ہوں، اپنے گوشوارے اور اثاثے ظاہر کرتا ہوں۔ ان کہنا تھا کہ کسانوں ہاریوں کی بات ایم کیو ایم کر رہی ہے، عمران فاروق کے اہلخانہ ہمارے ساتھ موجود ہیں، اکٹھے یاد گار شہدا جائیں گے۔ فاروق ستار نے دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا مصطفی کمال اپنی باری لے چکے، بازی ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے، ہم تو جڑے ہوئے ہیں اور یکجا ہیں۔ یادگارشہدا رروانگی سے قبل ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا شہداء ہماری تحریک کا اہم حصہ ہیں، انکے لہو کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ہر حال میں یادگار ایم کیو ایم شہدا پر جاؤں گا۔ انہوں نے کہا صاف ستھری ایم کیو ایم قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، شر پسندوں کو اپنی صفوں سے نکالیں گے کیونکہ ہم نے عدم تصادم والی ایم کیو ایم کیلئے قربانیاں دیں۔ فاروق ستار نے کہا 5 نومبر کے جلسے کے بعد بڑا حوصلہ ملا، 2018 میں مہاجروں کی عظمت لوٹائیں گے، ایک سال میں ایم کیو ایم پاکستان بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ والدہ فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میرا ایک بیٹا ہے اور میں نے اسے سیاست میں آنے سے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا بیٹے نے پارٹی کیلئے بہت قربانیاں دیں اور وہ شہدا کو سلام پیش کرنے جا رہا ہے۔ واضح رہے ایم کیو ایم پاکستان نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے عائشہ منزل سے یادگار شہداء تک اپنے مارچ کو منسوخ کر دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی نئی ترتیب کے مطابق کارکنان و عوام کے بجائے ڈاکٹر محمد فاروق ستار رابطہ کمیٹی کے ہمراہ یادگارِ شہداء پر حاضری دیں گے جبکہ یادگارِ شہداء تک مارچ کا پروگرام ناگزیر وجوہات کی بنا پر محدود کیا گیا ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.