مغرب کی تقلید کرنے والے ذہنی غلام ہو جاتے ہیں، گورنر مکہ

ان خیالات کا اظہار انہوں نے طائف کے تجارتی مرکز کے دورے پر دکان پر کام کرنے والے دو سعودی نوجوانوں کو دیکھ کر کیا جو سعودیہ عرب قومی لباس کے بجائے مغربی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے.

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر مکہ کا کہنا تھا کہ اگرمغرب کی نقالی میں ہم اپنا قومی لباس ترک کردیں گے تو کل جب مشرق سے چین کا عروج ہوگا تو ہم کیا پہنیں گے؟

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کسی ملک کی تہذیب اور ثقافت کے امین ہوتے ہیں اگر یہ نوجوان اپنی روایات سے روح گردانی کرنے لگیں اور دیگر تہذیب اپنانے لگیں تو یہ ذہنی غلامی ہو گی.

گورنر مکہ مکرمہ نے کہا کہ دنیا کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ایسے میں ہمیں حالات پر نظر بھی رکھنا ہے اور اپنے تشخص کوبھی برقرار رکھنا ہے جو کہ زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے.

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*