ملک بھر میں غیر یقینی  صورتحال بڑھنے لگی۔ دس وزارتوں کے سیکٹریوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ ایف بی آر نے گزشتہ جمعے کو پروفیشنل لوگوں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا اور نان پروفیشنل لوگوں کو سیٹوں پر تعینات کر دیا گیا۔۔۔ سیٹوں پر تعینات کروانے کے لئے زلفی بخاری کا دبائوں۔ ایف بی آر کے وہ افسران جو گزشتہ تیس سالوں سے کام کر رہے تھے ممبر آپریشن سے لے کر انسپکٹر آپریشن تک سب کو کالا پانی تبدیل کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا اور تین روز میں اس کا جواب طلب کیا ہے۔ پاکستان کا تمام میڈیا مکمل طور پر خاموش۔ جن افسران کو تبدیل کیا گیا وہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ایک ہارٹ سپیشلسٹ کو پتھیالوجی کا ہیڈ بنا دیا جائے اور پتھیالوجی سپیشلشٹ کو ہارٹ کا ہیڈ لگا دیا جائے۔۔۔ 2000 میں پرویز مشرف نے تمام فائلوں کا ریکارڈ جلوا دیا تھا اور اب پاکستانی تاریخ میں یہ دوسری بار ایسا ہوا ۔ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ بادبان ٹی وی پر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کی تفصیلات لمحہ بہ لمحہ اپنے قائرین کی نظر کرے گا۔ حقائق کے لئے صرف بادبان ٹی وی پر وزٹ کرتے رہیں۔