ملک کیلئے لیا گیا بیرونی قرض کیسے خرچ ہوا ؟ قوم کے اربوں روپے لوٹ کر کھا لیے گئے، پاکستان کا قرض 6 ہزار ارب سے 30 ہزارارب تک پہنچ گیا…وفاقی کابینہ پاکستان اور مراکش کے درمیان صنعتی تعاون کے معاہدے کی منظوری …ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے اور نکالنے کے معاملے کا جائزہ …وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

 وزیراعظم کا کہنا ہے قرضوں کی قسط واپس کرنے کیلئے آج ہم مزید قرض لے رہے ہیں، وزارت خزانہ سے قرضوں کے حوالے سے تفصیلات پوچھی ہیں، وزارت خزانہ سے پوچھا قرض کن منصوبوں پر خرچ ہوا ؟

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک کیلئے لیا گیا بیرونی قرض کیسے خرچ ہوا ؟ قوم کے اربوں روپے لوٹ کر کھا لیے گئے، پاکستان کا قرض 6 ہزار ارب سے 30 ہزارارب تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم اہم منصوبہ ہے، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم ون ونڈو آپریشن کے تحت شروع کیا جا رہا ہے، اورنج لائن ٹرین کیلئے مزید قرض لینا پڑے گا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے اور نکالنے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا، چیئرمین نجکاری کمیشن کا تقرر بھی کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے، چیئرمین پی آئی اے کے تقرر کے معاملے پر بھی غور ہوگا۔

کابینہ اجلاس میں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے تقرر اور طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے گا، مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کے تقرر کی بھی منظوری دی جائے گی، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے یوریا کی درآمد پر قواعد میں نرمی کا جائزہ اور عطیے میں ملنے والی چار گاڑیوں پر ٹیکسوں کی چھُوٹ کا معاملہ ایجنڈے کا حصہ ہے۔

وفاقی کابینہ پاکستان اور مراکش کے درمیان صنعتی تعاون کے معاہدے کی منظوری