موجودہ حالات میں استعفوں کا آپشن بے وقت کی راگنی

منتخب ایوانوں سے استعفوں کا اعلان ہمیشہ سیاسی قوتوں کی جانب سے اہم ایشوز پر منتخب حکومتوں پر سیاسی دباؤ بڑھانے کیلئے بروئے کار لایا جاتا ہے مگر سنجیدہ سیاسی قوتیں اپنی اس دھمکی اور اعلان پر عملدرآمد سے اس لئے گریزاں رہتی ہیں کہ آنیوالے وقت میں اگر وہ خود حکومت میں آئیں یا حکومتوں کا حصہ بنیں تو اس وقت کی اپوزیشن انہیں اس آپشن کے ذریعے بلیک میل کرے گی اور اس طرح سے جمہوریت اور جمہوری عمل پر خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ نئی پیدا شدہ صورتحال میں عمران خان کی جانب سے شیخ رشید اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کے اثرات کے طور پر استعفوں کے آپشن کو بروئے کار لانے کی بات ہوگی اور ان کا کہنا یہ ہے کہ استعفے مل گئے جب چاہوں پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کر دوں گا۔ لہٰذا دیکھنا یہ پڑے گا کہ اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک انصاف اس مرحلہ پر استعفوں کا آپشن استعمال کر پائے گی۔ استعفوں کا اعلان کن ایشوز کی بنا پر ہو سکتا ہے اس کے حکومت وقت پر کیا اثرات ہوں گے اور کیا ملک کے اندر جاری جمہوریت اور جمہوری عمل اس سے متاثر ہوگا۔

اس وقت جب نئے انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں اور سیاسی قوتوں نے عام انتخابات کی تیاری کا غیر اعلانیہ عمل شروع کر رکھا ہے نئی صف بندی ہو رہی ہے تو اس صورتحال میں کسی بھی سنجیدہ جماعت یا قیادت سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو کیونکہ موجودہ اسمبلیاں اپنے آخری فیز میں ہیں استعفوں کے آپشن کے استعمال سے حکومت کو فرق پڑے گا اور نہ ہی جمہوریت یا جمہوری عمل پر اس کے اثرات ہوں گے خود عمران خان ابھی تک اس حوالہ سے یکسو بھی نہیں کہ استعفوں کا اعلان کن ایشوز کی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی جماعت کے ذمہ دار ذرائع استعفوں کے اعلان پر کنفیوژ نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سیاست کا اعزاز ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت کو پہلے روز سے ہی دباؤ میں رکھا اور اس مرحلہ پر بھی استعفوں کے آپشن کی بات کو اس تناظر میں لینا چاہئے۔ عمران خان اور ان کی جماعت ایسا کیونکر کرے گی جب سینیٹ انتخابات سر پر ہیں پختونخوا اسمبلی کے ذریعہ ان کے مزید اراکین سینیٹ کا حصہ بن سکتے ہیں، ویسے بھی استعفوں کا آپشن اس وقت ہرگز مفاد میں نہیں جب خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت اس پوزیشن میں ہوگی کہ وہ اپوزیشن کیساتھ ملکر صوبائی نگران سیٹ اپ قائم کرے۔

فرض محال اگر عمران خان یہ فیصلہ کر بھی لیتے ہیں تو اس کی مزاحمت اور نقصان انہیں اپنی جماعت کے اندر سے اٹھانا پڑیگا جس کا سامنا وہ پہلے بھی کر چکے ہیں جب ان کی جماعت نے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا فیصلہ کیا تھا مگر پارٹی ایم این ایز نے اس فیصلہ کو بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا تھا اور تحریک انصاف ان دنوں خاصی مضطرب اور سیاسی بے چینی کا شکار تھی۔ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور عوام خوب جانتے ہیں کہ استعفیٰ مایوس سیاسی عناصر خصوصاً شیخ رشید کا سیاسی آپشن تو ہو سکتا ہے مگر ایک ابھرتی ہوئی سیاسی قوت جو اپنی تمام تر سیاسی غلطیوں کے باوجود خود آج بھی مسلم لیگ ن کے مضبوط انتخابی گڑھ پنجاب میں اس کے مقابلہ کی صلاحیت رکھتی ہے وہ اگر اس طرح میدان چھوڑے گی تو ملک کے اندر تو جو مایوسی ہوگی سو ہو گی مگر اس کا سب سے بڑا نقصان تحریک انصاف کو بطور ایک سیاسی جماعت ہوگا اور اس کے سیاسی اثرات ہمیں تب نظر آئیں گے جب اس جماعت میں آئندہ انتخابات کے حوالہ سے شمولیت کیلئے تیار بیٹھے بڑے سیاسی نام منہ موڑ جائیں گے اور پارٹی اندر انتخابی معرکے جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے سیاسی خاندان بھی اپنا مستقبل دوبارہ مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیں گے۔

اطلاعات یہی ہیں کہ عمران خان نے استعفوں کے آپشن کی بات طاہر القادری اور شیخ رشید کے جذبات سے متاثر ہو کر کی مگر اس اعلان کو خود جماعت کے اندرونی حلقوں خصوصاً فیصلہ ساز کور کمیٹی میں بھی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ غالب امکان یہی ہے کہ چونکہ تحریک انصاف کے چیئرمین استعفے کے آپشن پر غور کا اعلان ایک عوامی جلسہ میں کر چکے ہیں لہٰذا اس سے پیچھے ہٹنے کیلئے اتنا وقت تو ضرور لیں گے جتنا اس آپشن کے خالق شیخ رشید نے لیا اور وہ استعفے کے آپشن سے بھاگ گئے۔ شیخ رشید کے استعفے سے مکرنے سے عمران کی سیاسی پوزیشن بھی متاثر ہوئی ہے۔ کہا جا سکتا ہے استعفوں کا آپشن سیاسی نعرے کے طور پر تو ضرور ہوگا مگر عملاً اس کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.