مووی تبصرہ: اللہ یار اینڈ دا لیجنڈ آف مارخور

  اینیمیٹد فلم اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور بروز جمعہ ملک بھر میں ریلیز ہو چکی ہے۔ بچے تو بچے، بڑے بھی اس فلم کو دیکھنے سنیما گھروں میں پہنچے ہوئے ہیں۔ میں بھی اس فلم کا کافی عرصے سے انتظار کر رہی تھی، فلم ریلیز ہوئی تو پہلا ہی شو دیکھنے پہنچ گئی۔ یہ فلم تھرڈ ورلڈ اسٹوڈیو اور ای بی ایم کے اشتراک سے بنائی گئی ہے۔ اس کی ہدایات عذیر ظہیر نے دی ہیں۔ اللہ یار اینڈ دا لیجنڈ آف مارخور کے مرکزی کرداروں میں اللہ یار، مہرو، مانی، ہیرو اور چکو شامل ہیں۔ اللہ یار ایک چھوٹا بچہ ہے جو ایک جنگلی علاقے میں رہتا ہے، اس کے والد رینجرز سے ہیں جن کے ذمے جنگل کی حفاظت ہے۔ مانی ایک خطرناک شکاری ہے جو جانوروں کا شوقیہ شکار کرتا ہے۔ مہرو ایک ننھی مارخور ہے جو اپنے گھر سے دور نکل آتی ہے اور شکاری کے ہتھے لگ جاتی ہے، ہیرو ایک چکور ہے جو مادہ چکوروں سے ہر وقت فلرٹ کرتا پایا جاتا ہے اور چکو ایک برفانی چیتا ہے جس کے ماں باپ کو شکاری نے مار دیا تھا اور اب وہ شکاری سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔ اللہ یار مہرو کو شکاری سے بچاتا ہے جس کے بعد اسے جادوئی طریقے سے تمام جانوروں کی بولی سمجھ آنے لگتی ہے۔ اب اللہ یار مہرو کو اس کے گھر بحفاظت چھوڑنے جا رہا ہے۔ اس سفر میں ان کے کئی دوست بھی بنتے ہیں اور کئی دشمن بھی، شکاری بھی ان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اب یہ کیسے اپنی منزل پر پہنچتے ہیں، خطرات کا کیسے مقابلہ کرتے ہیں اور چکو کیسے اپنے ماں باپ کے قتل کا بدلہ لیتا ہے، یہ جاننے کے لیے تو آپ کو سنیما کا رخ کرنا پڑے گا۔ فلم کے کرداروں کی بات کریں تو اللہ یار کی نسبت مہرو، ہیرو اور چکو کے کردار مضبوط بھی ہیں اور دلچسپ بھی جبکہ اللہ یار کا کردار تھوڑی سی اور محنت کے بعد مزید بہتر ہو سکتا تھا۔ اللہ یار کا کردار انعم زیدی نے نبھایا ہے جبکہ مہرو کا نتاشا حمیرہ اعجاز، مانی کا علی نور، ہیرو کا ازفر جعفری اور چکو کا عبدالنبی جمالی نے ادا کیا ہے۔ چکو کی آواز کی معصومیت اور مکالموں کی ادائیگی دل موہ لینے والی ہے۔ ہیرو کی ادائیں اور فلرٹنگ بھی سنیما بینوں کو خوب محظوظ کرتی ہے۔ موسیقی کی بات کی جائے تو وہ مزید بہتر ہو سکتی تھی اگر اس فلم کے گانے گانے کے لیے بچوں کا انتخاب کیا جاتا۔ فلم میں کئی سین ایسے ہیں جہاں ایسے لگتا ہے کہ مزید تفصیل بھی بتانی چاہئیے تھی مگر ہیرو کا کردار ان خامیوں پر پردہ ڈالنے میں کافی کامیاب رہا ہے۔ فلم کے اکثر ڈائیلاگز بچوں کے سمجھنے کے لیے مشکل ہو سکتے ہیں لیکن فلم کا پیغام آسانی سے ان کی سمجھ میں آ جائے گا۔ سنیما میں کئی سین پر بچے اور بڑے دونوں ہی قہقہے لگاتے بھی دکھائی دیے۔ اب باری ہے نتیجے کی، میرے فلمی سکیل پر یہ اینیمیٹد فلم پانچ میں سے تین نمبر حاصل کرنے میں آسانی سے کامیاب رہی ہے۔
This entry was posted in تفریح, اہم خبریں. Bookmark the permalink.