مچھلی کے بعد دودھ نہ پئیں۔ سچ یا جھوٹ؟

سردیوں کے موسم میں مچھلی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ مچھلی کھانے والوں کو طرح طرح کے مفروضے بھی سننے کو ملتے ہیں جو نجانے سچ ہوتے ہیں یا جھوٹ۔ جیسے کہ مچھلی کھانے کے بعد دودھ نہیں پینا چاہئیے ورنہ برص نامی بیماری ہو سکتی ہے۔ یہ مفروضہ صدیوں سے مشہور ہے۔ اب یہ اتنا پختہ ہو گیا ہےکہ لوگ مچھلی اور دودھ کا بیک وقت استعمال ترک کر چکے ہیں۔ برص کی بیماری میں جلد ہر سفید رنگ کے دھبے نمودار ہونے لگتے ہیں۔ اس مرض میں جلد کو اس کی قدرتی رنگت دینے والے خلیات مخصوص رنگدار مادہ بنانا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا یہ مفروضہ درست ہے؟ طبی سائنس کے مطابق مچھلی کے بعد دودھ یا دیگر ڈیری مصنوعات کے استعمال سے برص کی بیماری نہیں ہوتی۔ مچھلی اور دودھ کا امتزاج کچھ افراد کے لیے بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے لیکن یہ تعداد بھی بہت قلیل ہے۔ اس بدہضمی کی وجہ یہ ہے کہ دودھ اور مچھلی دونوں ہی پروٹین سے بھرپور غذائیں ہیں۔ اگر ان دونوں کو اکٹھا استعمال کیا جائے تو نظامِ ہاضمہ کو دوہرا کام کرنا پڑتا ہے۔ معدے کو ان دونوں غذائوں کو ہضم کرنے کے لیے دو طرح کی رطوبتیں خارج کرنی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے مچھلی اور دودھ کو ایک ساتھ ہضم کرنا کچھ لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ مچھلی کو دہی کے ساتھ بھی پکایا جاتا ہے اور دہی تو دودھ سے ہی بنتی ہے۔ اگر اس نکتے کو سامنے رکھا جائے تو یہ مفروضہ خودبخود ہی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ کچھ خاص اقسام کی مچھلیوں کھانے کے بعد دودھ پینے سے برص یا الرجی کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ اس مفروضے کی بھی اب تک سائنس نے تصدیق نہیں کی ہے۔
This entry was posted in Science and Technology, اہم خبریں. Bookmark the permalink.