‘میانمار، بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو واپس لے’

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی وزیراعظم نے بدھ مت اکثریتی ملک میانمار سے روہنگیا مسلمانوں کی واپسی پر زور دیا.

بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے بھی پیر (11 ستمبر) کو تحریک منظور کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ اور شہریت کے لیے میانمار پر دباؤ بڑھائیں.

شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ 'میانمار بنگلہ دیش آنے والے، اور بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو واپس لے'.

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم میانمار کو روہنگیا مسلمانوں کی بحالی میں تعاون فراہم کریں گے'.

روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے حالیہ تشدد پر میانمار کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیراعظم نے کہا کہ 'ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ میانمار کے حکمرانوں نے ایک مخصوص کمیونٹی پر اتنے مظالم کیوں ڈھائے جبکہ ان کا ملک مختلف کمیونٹی کے افراد پر مشتمل ہے'.

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش طویل عرصے سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کررہا ہے.

شیخ حسینہ نے کہا 'لیکن پھر بھی روہنگیا افراد کو بنگلہ دیش روانہ کیا جارہا ہے، خواتین کو ریپ اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، بچوں کو قتل کیا جارہا ہے، رکھائن علاقے میں گھروں کو آگ لگائی جارہی ہے'.

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے انسانی حقوق کے نگراں سرکاری ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے.

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین قاضی ریاض الحق نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ 'اس نسل کشی پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے'.

ان کا کہنا تھا کہ 'میانمار کی فوج اور سرحدی گارڈز کی جانب سے کیے جانے والے قتل وغارت، تشدد، اور زیادتیوں کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی'.

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنا چاہیے.

انہوں نے چین اور بھارت کو بھی بحران کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے کی دعوت دی.

دوسری جانب پیر (11 ستمبر) کے روز اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے جانے والے ایک پیغام میں بنگلہ دیش کےجونیئر وزیر داخلہ محمد شہریار عالم کا کہنا تھا شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش میں داخل ہونے والے مزید روہنگیا مسلمانوں کے لیے عارضی شیلٹرز قائم کرنے کے لیے پہلے سے موجودہ کیمپس کے نزدیک مزید 2 ہزار ایکڑ زمین مختص کی ہے.

This entry was posted in بین الاقوامی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.