میں نے اور پورے پاکستان نے نااہلی کا فیصلہ قبول نہیں کیا، نوازشریف

شاہدرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے بتایا جائے شاہدرہ کی عدالت نے کیا فیصلہ سنایا ہے، نوازشریف کی نااہلی کی فیصلہ قبول کیا، مجھے معلوم ہے آپ نے میری نااہلی قبول نہیں کی، میں نے بھی نہیں کی اور پورے پاکستان نے نہیں کی، میرا وعدہ ہے نہ میں چین سے بیٹھوں گا اور نہ آپ بیٹھیں گے جب کہ آپ نے مجھے منتخب کرکے اسلام آباد بھیجا اور انہوں نے مجھے واپس بھیج دیا لیکن ہم سب ملکر پاکستان کو تبدیل کریں گے۔
اس سے قبل مرید کے میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ 2013 میں نہ تو چولہا جلتا تھا اور نا ہی کوئی کارخانہ چلتا تھا لیکن میں نے اقتدار سنبھالتے ہی دن رات عوام کی خدمت پر لگا دیئے سڑکیں بن رہی تھیں موٹروے بنائے جارہے تھے، روشنیاں دوبارہ لوٹ رہی تھیں بجلی بلاتسلسل اور سستی فراہم کی جارہی تھی اگر ترقی کی یہی رفتار رہتی تو اگلے دو تین سالوں میں بیروزگاری کا خاتمہ ہوجاتا. نوازشریف کا کہنا تھا کہ آپ نے مجھے وزیراعظم بنا کر اسلام آباد بھیجا تھا لیکن اسلام آباد والوں نے مجھے واپس بھیج دیا کیا یہ ووٹ کی توہین نہیں، چند لوگ پاکستان کے مالک نہیں ہوسکتے یہ وہی لوگ ہیں جو ووٹ کی پرچی بھاڑ دیتے ہیں اس ملک کے اصلی مالک 20 کروڑ عوام ہیں، پاکستانی عوام کو اس سلسلے کو روکنا ہوگا یہ گھناؤنا کھیل صرف پاکستان میں کھیلا جارہا ہے پاکستان کے علاوہ کوئی اور ملک اور خطہ نہیں جہاں یہ تماشا ہو پاکستان کی دنیا میں توقیراورعزت پر آنچ آرہی ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ آج مریدکے میں عوام کا جذبہ دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا اگر یہ جذبہ سلامت رہے تو خیر ہی خیر ہے اس جلسے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے اب ایک انقلاب ہونا چاہئے پھر آپ کے ووٹ کا احترام اس ملک میں ہوگا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں نوازشریف کبھی آپکو دھوکا نہیں دے گااور کبھی بے وفائی نہیں کرے گا۔ اس سے قبل گوجرانوالہ میں پارٹی قائدین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ ہم عدالت عظمیٰ میں جو بھی کرلیتے میری نااہلی کے منصوبے پر عملدرآمد ہونا ہی تھا کیوں کہ یہ منصوبہ بہت پہلے بنایا گیا تھا بیٹے سے تنخواہ نہ لینا جرم ہے تو لینا بھی جرم ہی ٹھہرتا۔ نوازشریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا، اگر پاناما کیس عالمی عدالت انصاف میں جائے تو وہ اسے ایسے رد کریں گے جیسے گوجرانوالہ کے عوام نے رد کیا اور ایک منٹ میں ہی کیس ختم ہوجائے گا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں عوام کی خدمت کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے ایک بار پھر روک دیا گیا، پاکستان میں گزشتہ 70 برس سے ووٹ کی قدر نہیں کی گئی لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عوام خود اپنے ووٹ کی قدر کرائے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.