نقیب محسود بیگناہ، جعلی مقابلے میں مارا گیا، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ تیار

نقیب اللہ قتل کیس کی انکوائری کمیٹی نے 15 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی جو سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں مقابلے کو جعلی اور نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔ رپورٹ میں نقیب اللہ کے ساتھ 3 جنوری کو گرفتار کئے گئے 2 افراد کے بیانات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سہراب گوٹھ سے نقیب اللہ کو پولیس نے 3 جنوری کو 2 دیگر افراد کے ہمراہ گرفتار کیا تھا، راو انوار کی ٹیم نے نقیب اللہ کے ہمراہ گرفتار کئے دو افراد کو مبینہ طور پر رشوت لے کر چھوڑا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوع سے پولیس کی سب مشین گن کے 26 خول ملے، چاروں افراد پر یکطرفہ طور پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی، پولیس مقابلے کے مقام پر مارے گئے افراد کی جانب سے فائرنگ کرنے کے شواہد نہیں ملے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں قیدی قاری احسان کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے جس میں قاری احسان نے راؤ انوار کے الزامات کی تردید کی اور کہا قتل کیا گیا نقیب اللہ محسود وہ نہیں جو پولیس کو مطلوب تھا۔ قاری احسان نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ راو انوار نے گڈاپ تھانے کے ساتھ ہی اپنا نجی عقوبت خانہ بنایا ہوا تھا جس میں 45 سے زائد لوگ اور بھی تھے، کال کوٹھری نما کمرے سے پولیس 4، 5 افراد کو لے جا کر مقابلے میں مار دیتی تھی۔
This entry was posted in Magazine, قومی. Bookmark the permalink.