ننھی زینب سمیت 6 بچیوں کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی۔۔۔لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کی جب کوئی جرم کا شور اٹھتا ہے تبھی ادارے حرکت میں آتے ہیں؟؟؟ جب احتجاج میں 1،2 قتل بھی ہوجاتے ہیں تبھی ادارے جاگتے ہیں؟سپریم کورٹ نوٹس لیتی ہے۔۔۔بادبان رپورٹ

کیا اس ملک کے ادارے تبھی حرکت میں آتے ہیں جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔ 8 بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد بھی مجرم عمران پکڑا نہ جاتا جب تک قصور کی عوام سڑکوں پر آئی اور احتجاج میں 2 قتل بھی ہو گئے۔ اگر اس ملک میں یہی انصاف ہے تو یہ پھر انصاف نہیں جنگل کا قانون ہے۔ 

زینب کے قاتل کو کوٹ لکھپت سینٹرل جیل میں مجسٹریٹ عادل سرور اور زینب کے والد محمد امین کی موجودگی میں پھانسی دی گئی۔ 

مجرم عمران کو پھانسی دیئے جانے کے وقت جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔

 عمران علی کی میت لینے کے لیے اس کا ایک بھائی اور دو دوست ایمبولینس لے کر کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے، جہاں قانونی کارروائی کے بعد عمران کی میت کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا، جسے لے کر وہ روانہ ہوگئے۔

عمران کی اہلخانہ کی کوٹ لکھپت جیل میں آخری ملاقات کا بندوبست گزشتہ روز  کیا گیا تھا جہاں سزائے موت کے سیل میں مجرم عمران سے 45 منٹ تک اہلخانہ کی آخری ملاقات  کروائی گئی۔