نواز شریف اور شہباز شریف سمیت 4 اھم سیاسی شخصیات سانحہ ماڈل ٹاؤن میں سزا کے متعلق چیف جسٹس سپریم کورٹ 3 رکنی بینچ بڑا فیصلہ کرے گی تفصیلات کے لئے یہاں کلک

کل مورخہ 13 فروری 2020 کو بوقت 9:30بجے صبح چیف جسٹسس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سانحہ ماڈل ٹاٶن کی JIT بحالی کیس کی سماعت سپریم کورٹ اسلام آباد میں سماعت کریں گے ۔

سانحہ ماڈل ٹاٶن JIT کی بحالی سانحہ ماڈل ٹاٶن کے انصاف کے لیے اشد ضروری ہے کیونکہ اصل ملزمان نواز شریف ۔ شہباز شریف.رانا ثناء اللہ ودیگران ملزمان جنہوں نے سا نحہ کی منصوبہ بندی کی تھی ان کا بھی ٹراٸیل انسداد دہشت گردی کورٹ میں ہو اور کیفرکردار کو پہنچیں تاکہ سانحہ ماڈل ٹاٶن کے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کو انصاف مل سکے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کےلئے بننے والی نئی جے
ٹی میں ایسی شہادتیں اور ثبوت فراہم کیے ہیں جو ہمیں ان کی حکومت جانے کے بعد میسر ہوٸی ہیں اور اصل ملزموں تک پہنچنے کے لیے JIT کو ایسی شہادتیں۔ثبوت اور شواہد مل گۓ تھے کہ بآسانی اس سانحہ کے منصوبہ سازوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔

سپیشل برانچ نے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور اس وقت کے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کو رپورٹ دی کہ ڈاکٹر صاحب کے کارکنان اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لیے زوروشور سے کام کررہےہیں۔
حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بھی بننے جارہاہے اور حکومت کے خلاف بڑی موومنٹ چلنے والی ہے۔

اس وقت کی ظالم نواز،شہباز حکومت نے اس تحریک کو روکنے کے لیے آئی جی پنجاب خان بیگ اور ڈی سی او احمد جاوید قاضی سے بات کی تو انہوں نے انکار کردیا

نواز، شہباز حکومت نےاپنے قابل اعتماد آفیسر مشتاق احمد سکھیرا اور کیپٹن (ر) عثمان کاانتخاب کیا اور انکو خصوصی طور پر قتل وغارت گری کےلئے ٹرانسفرکیا گیا۔

حالانکہ آئی جی مشتاق احمد سکھیرا کا گریڈ 21 تھا جبکہ آئی جی پنجاب کی پوسٹ 22ویں گریڈ کی تھی۔

مشتاق احمد سکھیرا کو ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات کے طور پر وفاقی ٹیکس محتسب لگادیا گیا۔

اور کیپٹن عثمان کو مراعات کےلئے طور پر صاف پانی پراجیکٹ میں سپیشل پیکج پر10لاکھ ماہانہ دیے گئے

شہباز حکومت نے آئی جی پنجاب کو تبدیل کرکے پولیس کو کور کیاپھر کیس کو کنٹرول کرنے کے لیے پراسیکیوشن کو بھی کور کیا۔

اسطرح مورخہ 17جون 2014کو وقوعہ کے دن ہی سید احتشام قادر شاہ کی بطور پراسیکیوٹر جنرل خصوصی تقرری کی گئی۔
پراسیکیوٹر جنرل کی 3سال کیلئےخصوصی تقرری کے بعد ان کو سپیشل پیکیج اور مراعات کے طور پر تقریبا 10 لاکھ روپے ماہانہ دیے گئے۔

مورخہ 17جون 2014کو 3 سال مکمل ہونے پر پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ کو مزید توسیع نہ مل سکتی تھی۔

مورخہ 22جون 2017کو حکومت پنجاب اور وزیر اعلی پنجاب نے گورنر پنجاب سے آرڈیننس جاری کروایا۔

آرڈیننس کے سیکشن 6 کے تحت حکومت پنجاب اور وزیر اعلی کوAmendment کا اختیار دے دیا گیا جس کے تحت پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں مزید 2سال کی توسیع کر دی گئی اور یہ توسیع اس لیے دی گئی کہ مقدمہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے

پراسیکیوٹر جنرل کو نہ صرف توسیع ملازمت دی گئی بلکہ مزید ترمیم بھی کی گئی کہ پراسیکیوٹر جنرل کی رائے کو کورٹ اہمیت دے گی اور پراسیکیوٹر جنرل ملزمان کی سزا بھی تجویز کرے

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کےلئے بننے والی نئی جے آئی

اور JITنے بھی خودان مختلف پہلوؤں پرتفتیش کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ وقوعہ کیوں ہوا اس کے پیچھے کیا سازش کار فرما تھی اس وقوعہ کے پیچھے کون کون سازشی عناصر موجود ہیں ۔اور یہ سازش کہاں سے چلی اور کس طرح اس سازش پر عملدرآمد ہوا۔

نئی جے آئی ٹی ان تمام حقائق کو منظرعام پر لانے کےلئے ان تمام پردوں کو چاک کرکے اصل ملزمان جو اس سانحہ کے منصوبہ ساز ہیں ان تک پہنچ گئی ۔ اور JIT ان ملزمان کو گنہگار کرکے انسداد دہشت گردی کورٹ میں عنقریب چالان پیش کرنے والی تھی تو فوری طور پر JIT کے نوٹیفکیشن کو معطل کروالیا گیا.

نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ