نوزائیدہ بچے کے پہلے 6ماہ کی اہمیت

ڈاکٹر نیلز برگ مین کا تعلق جنوبی افریقہ کی کیپ ٹائون یونیورسٹی سے ہے۔ بچے کو پیدائش کے فوراً بعد ایک ماہ تک ماں کے سینے پر سونا چاہیے۔ اس طرح وہ اپنی ماں سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ اور یہی عمل اس کی نشوونما میں بہترین ثابت ہوتا ہے اور تین سال تک اسے اپنی ماں کے ساتھ ہی سونا چاہیے۔ ماں کے ساتھ سونے سے بچے میں دوسروں سے محبت اور جذباتی لگائو کو تقویت ملتی ہے ۔16بچوں پر تحقیق کے بعد انہو ں نے یہ نتیجہ نکالا کہ پیدائش کے فوراً بعد جھولے میں ڈال دینے والی مائیں ان کی نشوونما میں خلل ڈالتی ہیں ایسے بچے ذہنی دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں معاشرے میں گھل مل کر رہنے میں دقت محسوس کرتے ہیں کبھی کبھی تنہائی پسندی ان میں جنم لے لیتی ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر نیلز کے خیال میں فوری طور پر والدین کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔ پیدائش کے فوراً بعد بچوں کو جھولوں میں ڈال دینے والے یا الگ سے سلانے والوں کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔ آج بنی نوع آدم آپس میں خلفشار کا شکار ہے لوگ ایک دوسرے کوبرداشت کرنے کے روادار نہیں اور ذرا ذرا سی بات کا انجام کشت و خون میں نکلتا ہے مغرب ہو یا مشرق تنائو کی کیفیت ہے ۔ مشرق اور مغرب کے اندر عدم برداشت فروغ پارہی ہے اس کی وجہ نو زائیدہ بچوں کی ماں سے دوری ہے ایسے بچوں میں جسمانی کمزوری بڑھنے اور موت کے اندیشے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یاد رکھیے پیدائش کے فوراً بعد 6 مہینے تک بچے کی کئی حسیں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتیں ہم سمجھتے ہیں جو کچھ بچے کے ہاتھ میں ہے وہی وہ دیکھ بھی رہا ہے ایسا نہیں ہے ممکن ہے وہ دیکھ کہیں اور رہا ہو اور ہاتھ میں کچھ اور ہو۔ 6 ماہ تک اس کی نظر اس کے ہاتھوں کا ساتھ نہیں دیتی ۔ ہاتھ اور آنکھو ں کا رابطہ 6 مہینے بعد جا کر کہیں بہتر ہونا شروع ہوتا ہے۔ اسے آنکھ ہاتھ کا تعلق کہا جاتا ہے۔ تب وہ چیزیں یا کھلونے دیکھ کر پکڑتا ہے یا پکڑ کر دیکھتا ہے۔ 6 ماہ کا بچہ نتیجے اور وجوہات کا تعین کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا بس وہ عمل کرتا رہتا ہے اسے یہ تمیز نہیں ہوتی کہ جہاں وہ انگلیاں گھسا رہا ہے وہاں کیا نقصان ہو رہا ہے بس وہ مسلسل ہاتھ چلا کر اپنی تحقیق اور جستجو میں لگا رہتا ہے۔ اس عمل سے بچے کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ذہنی نشوونما بھی ہوتی ہے اور وہ تجربات سے وہ کچھ سیکھتا ہے جو کچھ شاید ہم نہ سیکھا سکیں۔ بچے فوری طور پر چہرے کی شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے شاید وہ ماں کے خدو خال کو پہچاننے سے بھی قاصر ہوں مگر جسمانی تعلق انہیں ماں کے قریب رکھتا ہے۔ نظر بہتر ہونے پر وہ مختلف شکلیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ پیدائش کے فوراً بعد تنہائی کا شکار کیے جانے والے بچے شاید خوشی محسوس نہ کرتے ہوں ۔ حتیٰ کہ وہ اپنی ہی شکل آئینے میں دیکھ کر کلکاریاں مارتے ہیں ان کے لیے چہروں کی شناخت پہلے 6 مہینوں میں بہت بڑی خوشی ہوتی ہے اس عرصے میں اگر ماں باپ اس کے سامنے کوئی محفوظ آئینہ رکھ دے جس سے وہ اپنے آپ کو زخمی نہ کر سکے تو اس سے اچھی بات کوئی نہیں ہو سکتی وہ آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر اپنے آپ کو دریافت کرنے کے عمل میں لگا رہتا ہے۔ کھلونے اس کی جستجو میں اضافہ کرتے ہیں۔ بچوں میں فوری طور پر چھونے کی حس کوئی بہت زیادہ اچھی نہیں ہوتی اگرچہ پیدائش کے مرحلے میں ہی اس میں چھونے کی حس بیدار ہو جاتی ہے لیکن چھو کر کسی چیز کا ادراک کرنے کی حس وقت کے ساتھ ساتھ بیدار ہوتی ہے چھونے کے باوجود وہ فوری طور پر کسی شے کو نہیں سمجھ پاتا۔ بس وہ اندھا دھند چیزوں کو چھوتا رہتاہے۔اور یہ حس اس کی حرکتوں کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی جاتی ہے۔اور مختلف اشیاء کو پکڑ تے پکڑتے وہ بہت کچھ سیکھ جاتا ہے اس لیے یاد رکھیے 6 ماہ کے بچے کو ماں کے پیار کی بہت ضرورت ہے جدا ہو کر رہنے والی مائیں اپنے بچوں پر بہت بڑا ظلم کرتی ہیں اور پھر بڑے ہو کر یہی بچے اپنے معاشرے پر ظلم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
This entry was posted in Science and Technology, اہم خبریں. Bookmark the permalink.