نیا برطانوی قانون نواز شریف کیلئے خطرہ؟

انگلینڈ میں منی لانڈرنگ کے لئے جو پہلے عدالتیں اور قوانین تھے ان کو ناکافی سمجھا گیا۔ برطانیہ میں بھی یہی بحث جاری تھی، ان کا اصل ہدف روسی تھے جن کو اس بات کی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ بینکنگ چینل کے بجائے نقد رقم کے ساتھ لین دین کر سکتے ہیں۔ چونکہ پوٹن اور ان کے معاونین نے نقد رقم کے ذریعے جتنے بھی اثاثے خریدے، ان کو وہ ٹیکنیکل بنیادوں پر منی لانڈرنگ میں لا نہیں سکتے تھے کیونکہ ان کو اس بات کی چھوٹ دی گئی تھی لہذا ان کو ایسا قانون بنانا پڑا تا کہ ان سے پوچھا جا سکے کہ آپ جو اپنی دولت یہاں لائے ہیں، وہ کرپشن سے حاصل کی گئی یا پھر ایک جائز کاروبار کے ذریعے کمائی گئی۔

اب اس قانون میں نواز شریف، زرداری اور دیگر پھنستے ہیں اور پاکستانی لوگوں کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنے ان کرپٹ قائدین جنہوں نے برطانیہ میں اثاثے بنائے ہیں، کہہ سکیں کہ ان کو چیک کیا جائے۔

سپریم کورٹ میں جب ان فلیٹس کا معاملہ گیا تو وہاں پر نواز شریف نے اس کو راستے سے ہٹایا اور قطری خط پیش کر کے خود اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مار لی جس کو اب احتساب عدالت میں سماعت کے دوران ان کا وکیل پیش ہی نہیں کر رہا کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ یہاں پر یہ قطری خط دے دیا تو پٹ جائیں گے۔

میرے خیال میں شاید ایسی دستاویز ات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہو کہ یہ اثاثے 1993/94 میں ہی لئے گئے نہ کہ 2006ء میں۔ سپریم کورٹ میں تو نواز شریف اور ان کے بچوں نے واضح موقف اپنایا کہ حسین شریف کے پاس یہ اثاثہ 2006ء میں آیا اور اس وقت تک حسین شریف بالغ ہو چکے تھے اور وہ اپنے والد کے زیر کفالت نہیں تھے جبکہ عمران خان کی طرف سے یہ موقف اپنایا گیا کہ یہ اثاثے 1993/94 میں لئے گئے جس وقت حسین شریف ابھی چھوٹے بچے تھے اور نواز شریف کے زیر کفالت تھے۔

اس کے علاوہ کوئی اور گمان نہیں کہ یہ والد کی جائیداد ہے۔ احتساب عدالت میں بھی اسی پر بحث ہونی ہے کیونکہ کیس کا بنیادی نقطہ یہی ہے۔ برطانوی پولیس کو ان اثاثوں کے بارے میں نواز شریف کو بتانا پڑے گا کہ اثاثے خریدنے کے بارے میں 1993ء اور 2006ء کا کیا تنازع ہے؟ وہاں پر تو جھوٹ نہیں بولا جا سکے گا اور مجبوراً بتانا پڑے گا کہ 1993/94ء میں ہم نے یہ اثاثے لئے کیونکہ وہ اس وقت سے وہاں پر رہ رہے ہیں۔

بہت سارے سیاستدان جیسے شیخ رشید اور دیگر ہیں جو 1990ء کی دہائی میں بھی ان فلیٹس میں جا کر نواز شریف سے ملاقات کرتے رہے ہیں، وہ بھی اس کے چشم دید گواہ ہیں جو یہ بتا سکتے ہیں۔ اب ان اثاثوں کے باقاعدہ بلز ہیں، گیس اور بجلی اور کونسل کے بلز ہیں جو بے نامی نہیں ہوتے بلکہ اس کے نام ہوتے ہیں جس کی اصل میں وہ جائیداد ملکیت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ جو کئیر ٹیکر ہوتے ہیں وہ بھی جا کر بتا سکتے ہیں کہ یہ 1993ء سے یہاں پر رہ رہے ہیں، اس لئے میرا نہیں خیال کہ وہاں پر یہ موقف اپنا سکتے ہیں کہ یہ فلیٹس 2006ء میں انہوں نے خریدے۔ قطری شہزادہ کبھی بھی یہ رسک نہیں لے گا کہ وہ برطانیہ میں جا کر ایسا بیان دے جو پاکستان میں دیا ہے کیونکہ ان کی اپنی دولت بھی یورپ اور امریکا میں ہے۔ وہ کبھی بھی وہاں پر جھوٹ نہیں بولیں گے۔

اگر شریف فیملی یہ مان بھی لے کہ انہوں نے 1993ء میں یہ اثاثے لئے تو پھر یہ کن پیسوں سے لئے گئے؟ اتفاق فونڈری کی ٹیکس ریٹرن میں کتنے پیسے دیا کرتے تھے وغیرہ۔ نواز شریف تو شاید اس وقت 10 یا 20 روپے بھی ٹیکس نہیں دیتے تھے اور چونکہ اصل ریکارڈ ٹیکس کا ہی ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ اب اتنی بڑی رقم انہوں نے وہاں پر لگائی ہے تو ان کو بتانا پڑے گا کہ یہ رقم کہاں سے حاصل کی گئی اور پھر یہ رقم کس طرح وہاں پر منتقل کی گئی اور اس نقطے پر منی لانڈرنگ کا قانون بھی لاگو ہو جائے گا اور یہ اس میں پھنس جائینگے۔

اب پاکستانی ادارے یا سیاسی جماعت جیسے تحریک انصاف بھی برطانوی پولیس کو کچھ معلومات یا دستاویزات دے کر کہہ سکتی ہے کہ تحقیقات کی جائے جس پر قوی امکان ہے کہ وہ تحقیقات کریں اور یہ بھی بتا دیں کہ جو موقف نواز شریف نے پاکستان میں اپنایا ہے وہ درست ہے یا نہیں؟ اس قانون کے سول اور فوجداری نتائج بھی ہیں، اثاثے ضبط ہونا سول جبکہ جیل وغیرہ فوجداری نتیجہ ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.