نیا سیاسی اور احتجاجی محاذ پنجاب میں کیوں؟

ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے پنجاب حکومت کی قیادت کے استعفوں کیلئے ڈیڈ لائن اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی جانب سے ڈاکٹر طاہر القادری کے لائحہ عمل پر ان کی حمایت کا اعلان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اب نیا سیاسی اور احتجاجی محاذ پنجاب میں لگے گا اس کے مقاصد کیا ہیں۔ کیا اپوزیشن جماعتیں ڈاکٹر طاہر القادری کے بیانات کی حد تک حمایت کرینگی یا عملاً اس میں شریک ہوں گی۔ پنجاب حکومت پسپائی اختیار کرے گی یا وہ احتجاجی مہم سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد کیا وزیراعلیٰ شہباز شریف کو دانستہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن

اس میں کامیاب ہو سکے گی جہاں تک ڈاکٹر طاہر القادری کی ڈیڈ لائن کا تعلق ہے تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ آنے کے بعد توقع تھی کہ پنجاب حکومت نہیں جائے گی۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو پیچھے ہٹنا پڑے گا، سیاسی اور رائے عامہ کے محاذ پر ممکنہ دباؤ پنجاب حکومت کو گرا دیتا لیکن عملاً اس رپورٹ کے آنے کے بعد حکومت سے دباؤ ختم ہوا اور وزیراعلیٰ، ان کی ٹیم پنجاب بھر میں اپنے ترقیاتی کاموں اور دیگر سیاسی اثرات کے حصول کیلئے سرگرم ہوگئی۔

یہ وہ وجہ تھی جس سے مخالفین پریشان تھے اور خود عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کی جماعت اس ساری صورتحال سے کوئی فوری سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہی کیونکہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پوری قوم کے سامنے یہ رائے بن گئی ہے کہ عدالتیں عملاً آزاد ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کو کسی حتمی انجام تک پہنچانے میں عدلیہ کا کردار ہے نہ کہ اپنے سیاسی عزائم اور مقاصد کیلئے اسے مزید استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ڈاکٹر طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دی اور مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اﷲ اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں۔ اس اعلان کے ذریعے انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی سیاسی پوزیشن منوانے کی کوشش کی اور ان کی اس کوشش میں آئندہ انتخابات سے خائف سیاسی قوتوں نے ان کے احتجاج کی حمایت کر کے انہیں کھڑا رہنے اور احتجاج کو منظم بنانے کیلئے گرین سگنل دیا۔ سیاسی قوتوں کی جانب سے ڈاکٹر طاہر القادری کی حمایت معنی خیز ہے۔

اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی کو دیکھا جائے تو وہ خود تو آئندہ انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن پنجاب حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے ڈاکٹر طاہر القادری کو ہلا شیری دے رہی ہیں تاکہ وہ یہاں غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال طاری کر کے مسلم لیگ ن کے انتخابی گڑھ پنجاب میں ان کی انتخابی پوزیشن کو کمزور کریں اور ان کی انتخابی تیاریوں پر اثرانداز ہوں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*