نیند پوری نہ ہونے سے خطرناک بیماریوں کا خدشہ

امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے سے کئی بیماریوں سمیت ہڈیاں بھی کمزور پڑسکتی ہیں،ماہرین نے کم نیند لینے والے افراد اور انہیں لاحق ہونیوالی بیماریوں کا جائزہ لینے کیلئے کئے گئے مطالعے میں 20 سے 65 سال تک کی عمر کے رضاکاروں کو سونے اور جاگنے کے ایک خاص تجربے سے گزارا جس میں انہیں 3 ہفتے تک پوری نیند نہیں لینے دی گئی،مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ ان افراد میں ہڈیوں کی نشو و نما کرنے اور انہیں مضبوط بنانے میں مددگار پروٹین کی کارکردگی متاثر ہوئی جس سے ان تمام لوگوں میں ہڈیاں نسبتاً کمزور پڑگئیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی عمر میں مسلسل ناکافی نیند کے اثرات زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ نیند کی کمی سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن میں سے چند کی تفصیل درج زیل ہے۔ چڑچڑاپن بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور جذباتی پن کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔،یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ منفی جذبات نیند متاثر ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اس سے دفتری کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ سردرد سائنسدان اس حوالے سے پریقین نہیں کہ نیند کی کمی سردرد کا باعث کیوں بنتی ہے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے،بے خواب راتوں کے نتیجے میں آدھے سر کا درد ہونے لگتا ہے جبکہ خراٹے لینے والے 36 سے 58 فیصد افراد صبح سردرد کا شکار ہوتے ہیں۔ بینائی کی کمزوری نیند کی کمی بینائی کی کمزوری،دھندلا پن اور ایک کی جگہ دو نظر آنے کی شکل میں بھی سامنے آسکتا ہے،جتنا زیادہ وقت آپ جاگ کر گزارتے ہیں اتنی ہی بینائی میں خرابی کا امکان بڑھتا ہے جبکہ واہموں کے تجربے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ امراض قلب ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو 88 گھنٹے تک سونے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اوپر گیا جو کہ کوئی زیادہ حیران کن امر نہیں تھا مگر جب ان افراد کو ہر رات صرف 4 گھنٹے تک سونے کی اجازت دی گئی تو دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی جبکہ ایسے پروٹین کا ذخیرہ جسم میں ہونے لگا جو امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ بولنے میں مشکلات نیند کی شدید کمی آپ کو ہکلانے یا بولتے ہوئے مشکلات کا شکار کرسکتی ہے بالکل ایسے جیسے کسی نے نشہ کررکھا ہو۔ ایک تحقیق کے دوران رضاکاروں کو 36 گھنٹوں تک جگا کر رکھا گیا جس کے بعد وہ کسی سے بات کرتے ہوئے الفاظ بار بار دہرانے اور ہکلانے لگے،وہ اکتا دینے والے انداز سے آہستگی اور مبہم باتیں کرنے لگے، یہاں تک کہ ان سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ نزلہ زکام کے دائمی شکار اگر آپ ہر وقت نزلہ زکام کا شکار رہنے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر فلو حملہ آور ہوجاتا ہے تو اس کی ایک ممکنہ وجہ نا کافی نیند بھی ہوسکتی ہے،ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ 7 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان میں بیماری ہونے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ پیٹ کے امراض معدے میں سوجن کے امراض نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہوجاتے ہیں۔ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ دیتی ہے مگر اس میں کمی خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ ذیابیطس نیند کے دوران ہمارا جسم میٹابولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے تاہم زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی شکل میں نکلتا ہے،ایک تحقیق کے مطابق نیند کے دورانیے میں اضافہ ممکنہ طور پر ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی۔ کینسر طبی ماہرین نے نیند اور کینسر کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیق کی ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی گھڑی کے نظام میں مداخلت سے جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوتا ہے اور ان میں مخصوص اقسام کے کینسر خاص طور پر بریسٹ اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا
This entry was posted in بین الاقوامی, قومی, Science and Technology. Bookmark the permalink.