نیوزی لینڈ مے دھشت گردی بادبان رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نیوزی لینڈ انتھای ابدیدہ

نیوزِلنڈ کی وزیراعظم نے لواحقین سے ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگیں، اُن کے ساتھ آبدیدہ ہوکر اپنے دُکھ اور شرمندگی کا اظہار کیا اور اُنہیں گلے لگا کر حوصلہ دینے کی کوشِش کی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے بغیر کسی مطالبے کے خود ہی انہیں تحفظ دینے کا وعدہ کیا تاکہ لوگوں کا مساجد پر اعتماد جلد از جلد بحال ہو۔ جب سے یہ واقع رونما ہوا ہے وزیراعظم انتہائی بے چینی سے سارے تفتیشی عمل کا جائزہ خود ہی لے رہی ہیں اور بار بار پریس کانفرنس کرکے عوام کو معاملے میں پیش رفت سے باخبر رکھ رہی ہیں۔ ہمارے ہاں اخبار میں سُرخی لگ جاتی ہے کہ حملے میں اتنے دھشتگرد مارے گئے اور اسکے بعد ریاست ایک لمبی نیند سوجاتی ہے جیسے کوئی بات ہوئی ہی نا ہو کیونکہ ہر دفعہ مارنے والے ہندوستانی تھوڑی ہوتے ہیں جو ریاست فوری کاروائی کرے۔ دوسری بات یہ کہ آپ نے ویڈیوز میں دیکھ لیا ہوگا کہ وزیراعظم مسلمانوں کے آگے کتنی شرمندہ ہیں کیونکہ مسلمان وہاں کی اقلیت ہیں جبکہ یہاں غیر مسلموں کا کوئی پوچھتا بھی نہیں اور باتوں پہ آجائیں تو معلوم یوں ہوتا ہے جیسے دنیا بھر میں انسانیت کے سب سے بڑے علمبردار ہم ہی ہوں۔

#ریاست_ہوتی_ہے_ماں_کے_جیسی