واز شریف کو جیل میں پہلی رات فرش پر سلایا گیا، شہباز شریف

جنوبی پنجاب کے علاقے روجھان میں اپنے انتخابی جلسے سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ نہیں، ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے کو پتہ تھا کہ اسے جیل جانا ہے لیکن وہ پھر بھی پاکستان کے عوام کیلئے وطن واپس آئے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، موٹروے کا جال بچھایا اور عوام کیلئے صحت کارڈ کا اجرا کیا لیکن انھیں ان عظیم کاموں کے صلے میں جیل کی سزا دی جا رہی ہے۔

 

شہباز شریف نے کہا کہ ملک کی عوام کیلئے خدمت کرنے والے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو جنہوں نے دن رات ایک کر کے ملکی معیشت کو سہارا دیا اسے جیل کی پہلی رات فرش پر سلایا گیا۔

 

اپنے سیاسی مخالف پی ٹی آئی چیئرمین پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور میں ڈینگی آیا توعمران خان نتھیا گلی چلے گئے، میٹرو کو جنگلا بس کہنے والے نے اپنے صوبے میں میٹرو شروع کی، پشاور میں میٹرو بس بنی نہیں جگہ جگہ کھڈے بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے جلسوں کی کرسیاں ان کے دماغ کی طرح خالی ہیں، انہوں نے 2013ء میں پورے پاکستان کو بجلی دینے کا کہا لیکن میگاواٹ بھی بجلی نہیں بنا سکے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ سب کی چھٹی اور لاڈلے کو کھلی چھٹی، ایسا نہیں چلے گا، عمران خان نے دن رات جھوٹ بولے، جھوٹا شخص ملک کا وزیرِاعظم نہیں ہو سکتا، جو شخص 24 گھنٹے میں فیصلے سے مُکر جائے وہ پاکستان کو چلائے گا؟

 

یاد رہے کہ شہباز شریف نے نواز شریف کو جیل میں استحقاق کے مطابق سہولیات دینے کے لئے نگران وزیراعظم اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب کو خط لکھا تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ 3 مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو جیل میں ان کے استحقاق کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں، نواز شریف کو دل کا عارضہ ہے، انہیں ذاتی معالج کی طرف سے تواتر کیساتھ طبی معائنے اور ادویات کی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

 

نگران حکومت نے نواز شریف کو سہولتیں دینے سے متعلق شہباز شریف کے خط کا جواب میں کہا کہ سابق حکومت نے جیلوں میں جو غسل خانے دیئے وہی ہم دے سکتے ہیں۔

 

نگران وزیر قانون پنجاب ضیا حیدر رضوی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ سابق حکومت قیدیوں کو جو سہولتیں دے کر گئی وہی دی جا رہی ہیں، معاملات بہتر کر کے قیدیوں کو سہولتیں دے رہے ہیں، شریف خاندان 10 سالہ حکومت میں حالات کیوں بہتر نہ بنا سکے؟ سابق حکومت نے جیلوں کے غسل خانوں کو کیوں ٹھیک نہیں کیا؟

 

یاد رہے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو 10 سال قید، ایک ارب 29 کروڑ روپے جرمانہ، مریم نواز کو سات سال قید، 32 کروڑ روپے جرمانہ، شریف فیملی کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ عدالت نے کیس کے شریک ملزموں حسین اور حسن نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.