وزیراعظم کے دعوے دھرے، پاکستان نے قطر سے بھارت کی نسبت مہنگی ایل این جی خریدی

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز سینٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے دنیا کے کسی بھی ملک سے سستی ترین ایل این جی خریدی ہے۔ قطرسے معاہدے میں کوئی چیز نہیں چھپائی۔ لیکن وزیراعظم کے دعوے اور حقائق برعکس نکلے۔ 92نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ایل این جی معاہدے کی دستاویزات میں اہم معلومات سیاہی پھیر کر چھپائی گئیں۔ حقیقت میں15سالہ معاہدے میں ایل این جی کی ابتدائی قیمت ساڑھے 8روپے فی بی ٹی یو مقرر کی گئی جبکہ بھارت قطر سے 5سے 6روپے فی بی ٹی یو میں گیس خرید رہا ہے۔ وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ ایل این جی معاہدہ برنٹ مارکیٹ سے خام تیل کا 3اعشاریہ13فی صد فی بیرل پر کیا گیا۔ بھارت نے یہ معاہدہ خام تیل کی سستی ترین مارکیٹ جی سی سی سے کر رکھا ہے۔ بھارت کا ایل این جی معاہدہ خام تیل کی 6ماہ کی اوسط قیمتوں کے مطابق ہے۔ پاکستان نے براہ راست خام تیل کی قیمتوں سے منسلک کیا ہے ایل این جی سے پیدا ہونے والی کھاد اتنی مہنگی ہے کہ حکومت 4سو روپے فی بوری سبسڈی دے رہی ہے۔ بھارت 2ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں بیرون ملک سے کھاددرآمد کرکے اپنے کسانوں کو سستی ترین کھاد فراہم کر رہا ہے۔ بجلی قیمتوں کو دیکھا جائے تو ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی قیمتوں میں 50 پیسے فی یونٹ تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ایل این جی پاور پلانٹس کی پیداوار 15سے 30 فی صد اور متعدد بند پڑے ہیں۔ دوسری جانب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا خط بھی ایل این جی معاہدے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.