وزیر اعظم کے دورے سے قبل آرمی چیف اُس ملک کا دورہ کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے سربراہان پاکستانی فوجی سربراہوں کی گارنٹی مانگنے لگے۔۔۔ سول حکومت سے قبل فوجی سربراہ کی چین کے صدر، سعودی عرب کے بادشاہ اور دبئی کے سربراہ سے مُلاقاتیں ۔ تفصیلات بادبان رپورٹ میں جانئے

رپورٹ سہیل رانا

دورہِ سعودی عرب کے بعد چین اور اب متحدہ عرب امارات کا دورہ کامیاب۔ پاک فوج کے سربراہ نے پہلے سعودی عرب کے ساتھ ، پھر چین کے صدر اور 22 روز قبل سابق جنرل ڈائیریکٹر آئی ایس آئی دورہِ یو اے ای کیا اور اُسکے بعد اب وزیر اعظم کے دورے کو کامیاب بنوایا۔



اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان حکومت دن رات کام کر رہی ہے۔ لیکن اس کا سہرا فوجی قیادت کے سر جاتا ہے ۔ کوئی بھی مُلک سابقہ حکومتوں کے روئیے کی وجہ سے سول حکومتوں پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں خواہ وہ چین ہو یا سعودی عرب۔

حتٰی کہ دبئی کے حکمران بھی فوجی قیادت کی طرف دیکھتے ہیں ۔ کیا وزیر اعظم عمران خان سابقہ ادوار کی حکومتوں کے رویئے اور اعتبار کو بحال کر پائیں گے؟

کئیں ممالک کے سربراہان نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ سابقہ اُدوار میں معاہدہ کرنے سے پہلے سابقہ حکومت کے حکمران اُن سے کمیشن مانگتے تھے۔ یو اے ای پاکستان کو دو ارب ڈالر کی امداد کے ساتھ چھ ماہ کا تیل اُدھار دے گا۔
رپورٹ سہیل رانا