ون ویلنگ کا خطرناک کھیل، ایک سال میں 41 ہلاکتیں، درجنوں معذور

 
پولیس افسروں کے بلند بانگ دعوؤں کے برعکس صوبائی دارالحکومت و دیگر اضلاع میں ون ویلنگ کا کھیل یکم جنوری 2017ء سے 9 جنوری 2018ء تک41 نوجوانوں کو نگل گیا۔ یہ خطرناک کھیل ہزاروں زخمی جبکہ درجنوں ہمیشہ کیلئے معذور کر گیا۔ ون ویلنگ پر پولیس نے 1091 مقدمات درج کئے، ہزاروں نوجوان جیل بھجوائے، مگر ون ویلنگ سے ہونیوالے حادثات میں کمی کے بجائے گزشتہ سال اضافہ دیکھا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی اہم شاہراہیں مال روڈ، ایم ایم عالم روڈ، ملتان روڈ، فیروز پور روڈ اور جلو موڑ پر ون ویلنگ اور موٹر سائیکل ریس کا سلسلہ گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے۔ ون ویلنگ کے خلاف مہم کے سلسلے میں لاکھوں روپے خرچ کر کے شہر بھر میں اشتہارات، بینرز، پوسٹرز، فلیکس اور بورڈ آویزاں کئے گئے لیکن اس کے باوجود اہم تہواروں یوم آزادی نیو ایئر نائٹ، یوم دفاع اور ہفتہ وار چھٹی کو ون ویلنگ کا جان لیوا کھیل ٹریفک پولیس کی موجودگی میں سر عام کھیلا گیا۔ واقعات کے مطابق ہربنس پورہ میں دو حقیقی بھائی جاوید اور اکرم موٹر سائیکل پر کرتب کرتے ہوئے بجلی کے کھمبے سے ٹکرا کر موقع پر دم توڑ گئے۔ جوہر ٹاؤن کا رہائشی نوجوان نوکری سے واپس گھر جا رہا تھا کہ ون ویلروں کی ہوائی فائرنگ کی زد میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی، مگر 2 ماہ گزرنے کے باوجود کوئی ملزم گرفتار نہ ہوا۔ سمن آباد کا طالبعلم فیصل اور اس کا کزن عمران موٹر سائیکل ریس لگاتے ہوئے سامنے سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا گئے، فیصل موقع پر دم توڑ گیا جبکہ عمران کی زندگی بچانے کیلئے اس کی دائیں ٹانگ کاٹ دی گئی۔ مال روڈ، فیروز پور روڈ، جوہر ٹاؤن، ایئر پورٹ روڈ، گلبرگ، شادمان، سمن آباد، کاہنہ، جلو موڑ پر ون ویلنگ اور مو ٹر سائیکل ریس کے دوران کئی نوجوان زندگی کی بازی ہار گئے۔ پولیس نے فرضی کارروائی کر کے جھوٹے سچے مقدمات درج کئے، مگر منچلے ضمانتیں کرانے کے بعد دوبارہ جان لیوا کھیل کا حصہ بن گئے۔ سی ٹی او رائے اعجاز کے مطابق پولیس اپنا فرض ادا کر رہی ہے، ون ویلنگ کے خلاف مہم جاری ہے۔ والدین کا بھی فرض ہے کہ اپنے بچوں کو جان لیوا کھیل سے روکیں۔
This entry was posted in قومی, اہم خبریں. Bookmark the permalink.