ٹرمپ کے متنازعہ فیصلے، امریکہ تنہا رہ جائیگا

امریکی صدر ٹرمپ بہت سے متنازعہ فیصلے کرتے رہے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ سب سے متنازعہ ہے، اس فیصلے سے وہ امریکہ کے اندر ایک محدود لابی میں تو مقبول ہوں گے لیکن وہ مغربی دنیا میں تنہا رہ گئے ہیں۔ کوئی بھی یورپی ملک اس قسم کی پالیسی اختیار نہیں کرے گا، جہاں تک مسلم ممالک کا تعلق ہے وہاں پر ایک جیسا رد عمل نظر آرہا ہے، پوری اسلامی دنیا میں اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی اور مذمت کی گئی ہے۔ امریکہ نے یقیناً اس کے ردعمل کا اندازہ کیا ہوگا۔اس کے نزدیک ردعمل آئے گا کچھ جلسے جلوس ہوں گے، کچھ ماردھاڑ بھی ہوگی لیکن ان کا اندازہ یہ ہے کہ یہ معاملات دو ہفتے سے زیادہ نہیں چلیں گے وہ یہ امید نہیں کر رہے کہ قدامت پسند عرب ممالک جن کے امریکہ سے قریبی تعلقات ہیں وہ امریکہ سے تعلقات پر نظر ثانی کریں گے۔

امریکہ سمجھتا ہے کہ یہ تعلقات وقتی طور پر تو رک جائیں گے لیکن ان میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا، اب یہ بات عرب ملکوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح امریکہ پر مالی دباؤ بڑھا سکتے ہیں اگر انہوں نے متحد ہو کر امریکہ پر دباؤ ڈالا تو نتائج نکل سکتے ہیں ورنہ دو چار مہینے میں بات اسی طرح معمول کے مطابق چلتی رہے گی، یہ معاملہ 1995 سے چل رہا ہے لیکن کسی صدر نے یہ فیصلہ نہیں کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ متنازعہ فیصلے کرنے کی شہرت رکھتے ہیں اور ایک محدود فریم ورک میں کام کرتے ہیں، انہوں نے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے اس کی مخالفت امریکہ کے اندر بھی ملے گی کیونکہ اس سے امریکہ دنیا میں تنہا ہو جائے گا اور مغربی کنارے پر شدید احتجاج ہوگا۔غزہ کے علاقے میں فتنہ و فساد پیدا ہوگا تا ہم عرب ممالک کو متحد ہوکر امریکہ پر اقتصادی دباؤ ڈالنا ہوگا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.