ٹیکس رقوم اور دہند گان میں نمایاں کمی ہونے لگی

ٹیکس رقوم اور دہند گان میں نمایاں کمی ہونے لگی۔ کمپنیوں اور اداروں کا ملازمین سے جمع کردہ ٹیکس ایک سو دس ارب سے کم ہو کر بانوے ارب روپے سالانہ رہ گیا۔ حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ٹیکس ماہرین کہتے ہیں یہ سب اقتصادی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔ ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے لیکن پاکستان میں تو الٹی کنگا بہنے لگی ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کے باعث ٹیکس دہندگان اور ٹیکس رقوم میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ ٹیکس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ سال ٹیکس رقوم اور جمع کرانے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا حکومت نے دو ماہ میں کوئی نوٹس نہ لیا۔ کمپنیوں اور اداروں کی جانب سےملازمین کا جمع کردہ ٹیکس 110 ارب روپے سے کم ہو کر 92 ارب سالانہ رہ گیا ہے۔ کل انکم ٹیکس رقوم کا 85 فیصد دینے والے ٹیکس گزاروں کی تعداد 21677 سے کم ہو کر 19963 رہ گئی ہے۔ نان بزنس ٹیکس گزاروں کی جانب سے جمع رقوم 51 ارب روپے سے کم ہو کر 44 ارب روپے رہ گئیں۔ کل ایکٹئو انکم ٹیکس گزاروں کی تعداد 13 لاکھ 21 ہزار سے کم ہو کر 12 لاکھ 31 ہزار رہ گئی ہیں ۔ ٹیکس ماہرین نے حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس اہم ایشو کی طرف توجہ نہیں دے رہی۔ یہ سب اقتصا دی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔
This entry was posted in Busniess, اہم خبریں. Bookmark the permalink.