پارلیمانی اور قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل، حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پا گئے۔ 47 پارلیمانی و قائمہ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی حکومتی اراکین کے پاس رہے گی، قومی اسمبلی کی 40 میں سے 19 کمیٹیاں اپوزیشن کو جبکہ 21 حکومت کو ملیں گی۔ تفصیلات جانئے بادبان رپورٹ میں

پارلیمانی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات مکمل کر لئے گئے، قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا فارمولا طے پا گیا، اگلے ہفتے کمیٹیوں کے قیام سے متعلق قومی اسمبلی میں تحریک پیش ہوگی۔

مجموعی طور پر 47 پارلیمانی و قائمہ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی حکومتی اراکین کے پاس رہے گی، قومی اسمبلی کی 40 میں سے 19 کمیٹیاں اپوزیشن کو جبکہ 21 حکومت کو ملیں گی۔

میری ٹائم افیئرز، نار کوٹکس کنٹرول، اوورسیز پاکستانیز، ریلویز، مذہبی امور، تجارت، ٹیکسٹائل وفاقی تعلیم، انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن، مواصلات، ڈیفنس پروڈکشن، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹیاں اپوزیشن کو ملیں گی۔ کشمیر و گلگت بلتستان افیئرز، نجکاری، پوسٹل سروسز، سیفران، شماریات، واٹر ریسورسز کی کمیٹیاں بھی اپوزیشن کو ملنے کاامکان ہے۔

خارجہ، داخلہ امور اور خزانہ و دیگر کمیٹیاں حکومت کے پاس رہیں گی۔ تحریک منظور ہونے کے بعد کمیٹیوں کے چئیرمینوں کا انتخاب شروع ہو جائے گا۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، حقوق نسواں، الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر، دھاندلی کی تحقیقات، سی پیک اور کشمیر سے متعلق پارلیمانی کمیٹیاں بنیں گی۔ سپیکر اسد قیصر قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی جبکہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری قومی اسمبلی کی ہاؤس اینڈ لائیبریری کمیٹی کے چئیرمین ہونگے۔

پیپلزپارٹی نے بھی اپنے متوقع چئیرمینوں کے نام سپیکر کو دے دیئے، پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کا نام خارجہ امور کمیٹی کے چئیرمین کے لیے تجویز کیا ہے۔